سشیل کی واپسی موضوع بحث رہی

نئی دہلی، 27 دسمبر (یو این آئی) اولمپک میں دو بار تمغے جیتنے والے پہلوان سشیل کمار کی تین سال سے زیادہ وقت کے بعد میٹ پر واپسی، سال 2017 میں کشتی کی دنیا میں سب سے زیادہ بحث کو موضوع رہی۔ سشیل گزشتہ برس ریو اولمپک سے قبل نرسنگھ یادو کے ساتھ ٹرائل کا مطالبہ اور پھر دلی ہائی کورٹ تک کھینچے معاملے سے زیادہ سرخیوں میں رہے تھے لیکن اس بار وہ میٹ پر اپنی واپسی کے تعلق سے مسلسل خبروں میں چھائے رہے ۔ سشیل کو ڈبلیو ڈبلیو ای میں لے جانے کی کافی کوشش ہوئی لیکن سشیل کے دل میں کہیں نہ کہیں اولمپک گولڈ کی کسک باقی تھی اور انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو ای میں جانے کی تمام دلکش کوششوں کو ٹھکرادیا۔ بیجنگ اولمپک میں کانسے اور لندن اولمپک میں چاندی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کرنے والے پہلوان سشیل 2014 کے کامن ویلتھ گیمس میں سونے کا تمغہ جیتنے کے تین سال بعد میٹ پر اترے اور انہوں نے اندور میں ہوئی نیشنل چمپئن شپ میں 74 کلوگرام فری اسٹائل زمرے میں سونے کا تمغہ جیت لیا۔حالانکہ ان کی واپسی پر کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل میں ملے لگاتار تین واک اوور کا تنازع زیادہ چھاگیا۔ سشیل نے 9 سال بعد قومی چمپئن بننے کے بعد کہا کہ اس میں وہ کیا کرسکتے ہیں اگر سامنے والا پہلوان لڑنا نہیں چاہتا ہے ۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ سشیل جب قومی چمپئن بنے تو اندور میں ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ موجود تھے جنہوں نے ریو اولمپک سے قبل سشیل کے ٹرائل کے مطالبے کو خارج کرتے ہوئے نرسنگھ کی حمایت کی تھی۔ سشیل کی واپسی کا اثر پرو کشتی لیگ کے تیسرے ایڈیشن کی نیلامی میں نظر آیا جہاں دلی سلطانس نے 55 لاکھ روپے کی رقم کے ساتھ انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرلیا اور اس کے ساتھ ہی سشیل کے نام ، پرو ریسلنگ لیگ کا اب تک کا سب سے مہنگا کھلاڑی ہونے کا ریکارڈ درج ہوگیا۔ سشیل فیڈریشن کے ساتھ اپنے اختلافات کے سبب گزشتہ دو برسوں سے کشتی لیگ نہیں کھیلے تھے ۔ سال 2017 میں عالمی سطح پر کشتی میں ہندوستانی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو سینئر عالمی چمپئن شپ میں ہندوستان کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی جبکہ اس میں اولمپک تمغہ یافتہ پہلوان ساکشی ملک نے بھی شرکت کی تھی۔ اس کی بہ نسبت انڈر۔23 عالمی چمپئن شپ میں ہندوستان نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس کے تین پہلوان فائنل میں پہنچے ۔ بجرنگ پونیا، ونود کمار اور رتو فوگاٹ نے چاندی کا تمغہ جیت کر ملک لا سر فخر سے بلند کیا۔ ہندوستان نے اپنی میزبانی میں منعقدہ ہوئی سینئر ایشیائی چمپئن شپ میں ایک سونے ، پانچ چاندی اور چار کانسے کے تمغے جیتے ۔ ہندوستان کو اس چمپئن شپ کا واحد سونا بجرنگ نے دلایا جنہوں نے 65 کلوگرام زمرے میں کوریائی پہلوان کو ہراکر سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ ساکشی 60 کلوگرام کے زمرے کے فائنل میں جاپان کی پہلوان سے ہارگئیں اور انہیں چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد ساکشی کے بیان کہ’ انہیں جاپانی پہلوانوں کو ہرانے کے لئے اگلا جنم لینا پڑے گا’ کافی وقت تک بحث کا موضوع بنا رہا۔ ہندوستان نے تائیوان میں منعقدہ جونیئر ایشیائی چمپئن شپ میں دو سونے ، تین چاندی اور آٹھ کانسے کے تمغے جیتے ۔ ہندوستانی کیڈٹ پہلوانوں نے کیڈٹ ایشیائی چمپئن شپ میں پانچ سونے ، دو چاندی اور 16 کانسے کے تمغے حاصل کئے ۔ جونیئر عالمی کشتی مقابلوں میں ویر دیو گولیا نے کانسے ، منجو کماری نے کانسے اور ساجن نے کانسے کے تمغے جیتے ۔ عالمی کیڈٹ چمپئن شپ میں سونو اور آشو نے چاندی، سونم اور انشو نے سونے نیز نیلم، سمرن، منیشا اور میناکشی نے کانسے کے تمغے جیتے ۔ ہندوستان نے دولت مشترکہ مقابلوں میں 29 سونے ، 24 چاندی اور 6 کانسے کے تمغے جیتے ۔ سشیل اور ساکشی دونوں نے اس مقابلے میں سونے کے تمغے حاصل کئے ۔ سال کے آخر میں ہوئی کشتی لیگ کی نیلامی میں سشیل کو 55 لاکھ ملنے کے علاوہ دیگر ہندوستانی پہلوانوں میں ونیش فوگاٹ (یوپی دنگل ، 40 لاکھ روپے )، ساکشی ملک (ممبئی مہارتھی ،39لاکھ روپے )، گیتا فوگاٹ (یو پی دنگل ، 28 لاکھ روپے )، بجرنگ پونیا (یوپی دنگل، 25 لاکھ روپے ) کو اچھی قیمت ملی۔مجموعی طور پر یہ سال جونیئر اور کیڈٹ پہلوانوں کے لئے شاندار رہا۔