امداد کی بندش انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر اثرانداز نہیں ہوگی: آئی ایس پی آر

اسلام آباد6جنوری ( آئی این ایس انڈیا ) پاکستان کی فوج نے جمعے کے روز کہا ہے کہ امریکی امداد بند ہونے سے سکیورٹی کے باہمی تعاون اور علاقائی امن کی کوششو ں کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم، اس سے پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے عزم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔میجر جنرل آصف غفور نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ”پاکستان پیسوں کی خاطر نہیں، بلکہ امن کے لیے لڑ رہا ہے“۔ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ جب تک پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ”فیصلہ ک±ن کارروائی“ نہیں کرتا، پاکستان کو دی جانے والی کروڑوں ڈالر پر مشتمل فوجی امداد معطل رہے گی۔شدت پسند گروپ مبینہ طور پر پاکستانی علاقے سے کارروائیاں اور افغانستان میں امریکی افواج پر حملے کر تے ہیں۔میجر جنرل غفور نے کہا کہ ”سکیور ٹی اعانت کی بندش سے دہشت گر دی کے خلا ف جنگ کا پاکستان کا عزم ہرگز متاثر نہیں ہوگا۔ تاہم، یہ پاکستان امریکی سکیورٹی تعا ون اور علاقائی امن کی کوششوں پر ضرور اثرانداز ہوگا“۔ا±نھوں نے مزید کہا کہ فوج کی قیادت والی انسداد دہشت گردی کی کارر وائیوں کی مدد سے دہشت گردوں کو ”بلا امتیاز“ نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں حقانی گروپ بھی شامل ہے، جنھیں ”شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا“۔ جنرل غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی حدود میں دہشت گردوں کے مزید ”منظم“محفوظ ٹھکانے نہیں ر ہے۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ ”ہماری نیت پر شک کرنا دیرپہ امن اور استحکام کی جا نب یکساں مقاصد کے حصول کے لیے اچھا نہیں ہے۔ پاکستان اپنے اور امن کے بہتر ین مفاد میں اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا“۔