دسترخوان

‘رمضان المبارک: ’80 برس کی عمر میں چاول کے ساتھ سوکھی مرچیں کھاکر کھولتا ہوں روزہ

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 23-May-2018

سوکھی مرچ اور نمک سے باسی چاول کھانا بہت تکلیف دیتا ہے۔خاص کر اس عمر میں یہ کھانا جسم کو برداشت نہیں کر پاتا۔کئی مرتبہ مرچ کی وجہ سے کھانا زبان سے نیچے نہیں جا پاتا۔تب پانی پی پی کر لقمہ اندر جا پاتا ہے۔

رمضان کا مبارک مہینہ سب کیلئے کسی نہ کسی طرح کی آزمائش کا مہینہ ہوتا ہے ۔روزہ بھی بہت لوگوں کیلئے ایک طرح کی آزمائش ہی ہے۔میرے لئے روزہ کبھی مشکل نہیں رہا،سال بھر بھی فاقہ میں ہی گزرتا ہے۔بھوکے ۔پیاسے رہنا کوئی تکلیف نہیں ہے۔مشکل وہاں ہوتی ہے جب مہینے بھر تک روزے داروں کو صبح ۔شام لذیذ کھانا کھاتے دیکھتا ہوں۔تب کسی طرح کا کوئی سبق کام نہیں آتا۔جی میں آتا ہے کہ بس کسی طرح سے ایسا کھانا مجھے بھی مل جائے ۔

نماز کے بعد بازار سے گھر کی جانب لوٹتا ہوں ۔دن بھر کی پیاس سے چال ویسے ہی ڈھیلی ہوتی ہے لیکن دکانوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہ اور دھیمی ہو جاتی ہے۔تقریبا ساری دکانوں پر افطاری سجی ہوتی ہے۔کھجور ،شربت،موسمی پھلل،چھولے ،دہی کے ساتھ بڑے ،چنے کی دال ،پکوڑے ،کباب،قیمہ،بریانی،کورمہ،فینی،سیوئیاں،کھجلا،شیرمال اور بھی جانے کیا کیا بہت سی چیزوں کا تو مجھے نام بھی نہیں پتہ۔آخری مرتبہ ان میں سے کوئی چیز کب کھائی تھی یہ بھی یاد نہیں ۔طقیل عرصے سے کسی نے دعوت بھی نہیں دی۔

ہم سحری پر بھی رات کے باسی چاول نمک ملاکرکھاتے ہیں۔رمضان کی پہلی شام کیلئے ہم نے لئے کافی تیاریاں کیں۔گاؤں بھر میں گھومے تب جاکر تھوڑی سبزی اور چاول کا انتظام ہو سکا۔مجھے یاد نہیں کہ آخری مرتبہ میں نے بریابی کب کھائی تھی  یا پھر کھیر،یا سوئیاں۔میرے پورے گھر کے یہی حال ہیں۔ہم سب کیلئے یہ جنت کا کھانات ہے۔

اب 80 کا ہونے کو آیا ہوں ،ماں۔باپ مزدور تھے۔وہی مزدوری مجھےوراثت میں ملی ہے۔وہی میں نے اپنے بچوں کو دی ۔بھرے پیڑ سونا ہمارے لئے ویسا ہی مانو جیتے جی جنت پہنچ جانا۔بچوں کیلئے خوب محنت کی لیکن کبھی روٹیوں اور پیار سے زیادہ کچھ نہیں دے سکا۔یہی پیار ہے جو عمر ہوجانے پر بیٹی نے مجھے اور میری بیوی کو اپنے پاس بلایا ۔وہ خود غریب ہے۔اس کا شوہر مزدوری کرتا ہے اور بری مشکل سے دو جون کا کھانا مل پاتا ہے ۔ان سب کے باوجود وہ دونوں ہم بوڑھا۔بوڑھی کو بیحد پیار اور عزت دیتے ہیں۔

تمام پیار کے باوجود کئی مرتبہ بھوک کھلتی ہے۔میری عمر میں سب کو الگ ۔الگ طرح کا شوک لگ لگ جاتا ہے ۔میرا شوک اچھا کھانا ہے۔بھر پیٹ کھانا ہے دونوں میں سے کوئی بھی چیز میرے نصیب میں نہیں اب موت کے ساتھ ہی ہماری تکلیفوں کا کاتمہ ہوگا لیکن جب تک اس دنیا میں ہیں ،سال بھر کے روزے کی عادت ختم نہیں ہو سکے گی۔

سوکھی مرچ اور نمک سے باسی چاول کھانا بہت تکلیف دیتا ہے۔خاص کر اس عمر مین یہ کھانا جسم کو برداشت نہیں کر پاتا۔کئی مرتبہ مرچ کی وجہ سے کھانا زبان سے نیچے نہیں جا پاتا۔تب پانی پی کر لقمہ اندر جا پاتا ہے۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar