تاج محل کے تحفظ کے لئے سبھی فریقوں سے سپریم کورٹ نے مشورے مانگے

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 28-August-2018

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آگرہ کے مشہور زمانہ اور تاریخی عمارت تاج محل کے تحفظ کے سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیل کے ساتھ مشورےمانگے ہیں۔

جسٹس مدن بی لوکر کی سربراہی والی خصوصی بنچ نے تاج محل کے تحفظ کے معاملے میں حکومت کے ذریعہ خصوصی کمیٹی کو ایک ماہ میں اپنی تفصیلات سونپنےکا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تاج محل کے تحفظ (ٹی ٹی زیڈ) میں صنعتی کمپنیوں کے صحیح اعدادوشمار دستیاب نہ کرانے پر اترپردیش کی حکومت پر زبردست نکتہ چینی کی ہے۔

جسٹس لوکر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ٹی ٹی زیڈ میں صنعتوں کی تعداد کا صحیح علم نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ویژن پیپر کا مسودہ ہی غلط ہے۔ یہ بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ علاقے میں کتنی صنعتیں چل رہی ہیں۔

عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب حکومت تاج محل کے تحفظ کے لئے منتخب خصوصی کمیٹی کی رکن پروفیسر میناکشی دوہتے نے بنچ کو بتایا کہ پہلے ریاستی حکومت نے انہیں علاقے کی صنعتوں کی فہرست دی تھی لیکن بعد میں کہا کہ اس میں تبدیلی کی جائے گی کیونکہ فہرست صحیح نہیں ہے۔

عدالت نے شنوائی کے دوران استغاثہ ایم سی مہتہ، مرکزی ماحولیاتی تحفظ بورڈ اور اترپردیش حکومت سے تاج محل کے تحفظ کے تعلق سے مشورے مانگے ہیں۔