ترکی میں احتجاجی ماؤں کے خلاف پولیس کارروائی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 27-August-2018

انقرہ 26اگست ( آئی این ایس انڈیا ) ترکی میں برسوں سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور ان کی ماؤں کے ایک ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے کو ختم کرانے کے لیے پولیس کی طرف سے ہفتہ پچیس اگست کو طاقت کا استعمال کیا گیا۔ بیس سے زائد افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔ترکی کے شہر استنبول میں مقامی پولیس نے احتجاج کرنے والی ان عورتوں کے خلاف تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ سن 1980 اور سن 1990 کی دہائيوں سے لاپتہ بہت سے ترک شہر یوں کی ان ماؤں اور دیگر احتجاجی رشتہ داروں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے بھاری طاقت استعمال کی۔ اس دوران کم از کم تئیس افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ۔ موقع پر موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو بڑی بے دردی سے گھسیٹا اور انہیں زبردستی گاڑیوں میں سوار کرا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ترکی میں Saturday Mothers کے نام سے جانی جانے والی یہ خواتین ستائیس مئی سن 1995 سے استنبول کے مرکز میں ہر ہفتے احتجاج کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ وہ اپنے ان بچوں اور دیگر رشتہ داروں کی یاد میں اکٹھی ہوتی ہیں، جو سن 1980 اور سن 1990 کی دہائیوں میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان مظاہرین کا الزام ہے کہ ایسے ترک شہریوں کی گمشدگیوں اور اچانک لاپتہ ہو جانے میں ترک ریاست ملوث تھی۔ ان واقعات کو جدید ترکی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بھی قرار دیا جاتا ہے۔ہفتہ پچیس اگست کو گرفتار کی جانے والی خواتین میں بیاسی سالہ آمنہ اوکاک بھی شامل ہيں۔ وہ اس ہفتہ وار احتجاج کی قیادت کرتی رہی ہیں۔ آج ہفتے کے دن کا مظاہرہ اس سلسلے کا 700 واں ہفتہ وار احتجاج تھا۔ استنبول پولیس کی اس کارروائی سے قبل علاقائی حکام نے یہ اعلان بھی کر رکھا تھا کہ اس ہفتے ریلی نکالنے پر پابندی عائد ہے۔