حکومت شیلٹر ہوم کی لڑکیوں کو معاوضہ ادا کرے : ہائی کورٹ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 29-August-2018

پٹنہ 28 اگست (اسٹاف رپورٹر): پٹنہ ہائی کورٹ نے ریاست کے شیلٹر ہوم میں جنسی استحصال کا شکار ہوئی لڑکیوں کو تین ہفتے کے اندر ضابطے کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کا حکم ریاستی حکومت کودیا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی لڑکی کانام عام نہ ہو۔ اس کام کیلئے بہار اسٹیٹ لیگل سروسیز اتھاریٹی اور نیشنل لیگل سروسیز اتھاریٹی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سی بی آئی کے ڈی آئی جی بھی موجود تھے۔ ان کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ سی بی آئی ایس پی کو ہٹایا نہیں گیا تھا بلکہ صحت کی بنیاد پر ان کا ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ ایس پی کے ٹرانسفر سے متعلق فائل کو چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں دیکھا۔ سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات ویبھا کماری کررہی ہیں جو ہر لحاظ سے اہل ہیں۔ مظفر پور اور دیگر شیلٹر ہوم میں جنسی استحصال کی جانچ کاکام اسی انسپکٹر کو سونپا گیا ہے۔ عدالت کویہ بھی بتایا گیا کہ سی بی آئی میں افسران کی کمی ہے اس کے باوجود تحقیقات میں کوئی کسر نہیں رکھی جارہی ہے۔ چیف جسٹس مکیش آر شاہ اور جسٹس ڈاکٹر روی رنجن کی دو نفری بنچ نے منگل کو تقریباََ پورے دن اس معاملے کی سنوائی کی۔ ایڈووکیٹ شیام سنہا اور ایڈووکیٹ الکا ورما نے ڈویژن بنچ سے دیگر پہلوئوں پر بھی غور کرنے کی گزارش کی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ ڈویژن بنچ نے ریاستی حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا کہ غیر سرکاری رضاکار تنظیموں پر کنٹرول کیسے ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل للت کشور نے کہا کہ ان اداروں کو ریاستی حکومت اجازت دیتی ہے ساتھ ہی مالی امداد بھی مہیا کراتی ہے۔ لیکن اب حکومت خود اس کا انتظام وانصرام دیکھے گی۔ اس معاملے پر بدھ کو بھی تفصیلی سماعت ہوگی۔ خیال رہے کہ مظفر پور اور دیگر شیلٹر ہوم میں جنسی استحصال کے معاملوں پر ایک ساتھ ہائی کورٹ سماعت کررہا ہے۔