دنیا سے الگ تھلگ رہنے کا راستہ ہم نے نہیں چنا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 30-August-2018

تہران ،29اگست (اے یو ایس ) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ایرانی نوجوانوں نے مسترد کر دیا ہے کہ عالمی دباؤ کی صورت حال میں جینے کا فیصلہ ایرانی قوم نے خود کیا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے اس بیان کے بعد کہ ایرانیوں نے دباؤ میں جینے کا راستہ خود چنا ہے، سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔جواد ظریف کا اشارہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے نتیجے میں اس ملک کے خلاف بڑھتی ہوئی اقتصادی پابندیوں کی طرف تھا۔ظریف نے یہ بیان اتوار کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی وڑن کے ایک لائیو شو کے دوران دیا۔شو کے میزبان رضا راشد پور نے ان سے پوچھا کہ ایرا ن کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ عالمی دباؤ کا سامنا کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ایک مختلف انداز جینے کا راستہ چنا ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں یہ بتائے کہ ہم نے کس طرح زندگی بسر کرنی ہے۔ ہم اپنے قوانین کے مطابق اپنے عوام کے حقوق کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ہم ایک ایسا نظام حکومت چاہتے ہیں جسے ہم ترجیح دیتے ہیں۔جواد کے بیان کو مسترد کرنے والوں میں ایک صدف نامی خاتون بھی ہیں جن کے فالور ز کی تعداد 24 ہزار سے زیادہ ہے۔ انہوں نے فارسی زبان کے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مسٹر ظریف یہ راستہ ہم نے نہیں چنا۔ ہمارے والدین اور آپ جیسے لوگوں نے تقریباً 40 سال پہلے اسے چنا تھا جس پر اب وہ معذرت خواہ ہیں۔ ہم نوجوان ایرانوں کا خواب یہ ہے باقی ماندہ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ اور معمول کے مطابق ہوں۔ایران میں مقیم ایک صحافی عامر عباس کلہور نے ایک ہیش ٹیگ میں فارسی زبان میں لکھا ہے کہ نہ ہی تو میرے والدین نے اور نہ ہی میں نے اور میری جنریشن کے دوسرے لوگوں نے آپ کو چنا ہے۔ جنہیں نہ تو ریفرنڈم اور نہ ہی آزاد انہ انتخابات میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ایران کی اسلامی لیڈر شپ نے 1979 کے انقلاب میں شاہ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس وقت سے ایران پر غیر منتخب مذہبی لیڈر قا بض ہیں جنہیں منتخب صدر اور پارلیمنٹ کے فیصلو ں پر نظرثانی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔