ریرامیں رجسٹریشن کا پتہ لگاکر ہی زمین کی خریداری کریں: افضل امان اللہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 31-August-2018

پٹنہ: بہار کے زمین صارفین کو ہشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بازار میں زمین، اپارٹمنٹ، فلیٹ کے تعلق سے فریب و جعلسازی کا معاملہ بڑے زور و شور سے جاری ہے ۔ بہت سارے بلڈرس ریرا سے متعلق غلط جانکاری دیکر صارفین کو ٹھگنے کا کام کر رہے ہیں ۔ اس لئے صارفین کو چاہیئے کہ وہ کسی بھی بلڈرس اور ڈیولپرس کے یہاں زمین کا معاملات کرنے سے پہلے انکے پروجیکٹ کا ریرا میں رجسٹریشن ہے کہ نہیں ؟ اس سلسلے میں پہلے مطمئن ہوجائیں اور اسکے لئے ریریا کے ویب سائٹ سے متعلقہ بلڈرس کے رجسٹریشن سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرلیں ۔ یہ اہم جانکاری ریرا ، بہار کے چیرمین افضل امان اللہ نے آج پریس کانفرنس کے دوران دی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آتھاریٹی کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ بڑی تعداد میں پروموٹرس؍ ڈیولپرس اپنے پروجیکٹ کے بارے غلط جانکاری دے رہے ہیں کہ یہ سبھی نئے پروجیکٹ ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ سبھی زیر تکمیل پروجیکٹ ہیں تاکہ تاخیر فیس چارجیز سے بچا جاسکے ۔ چھان بین کے بعد یہ پتہ چلا کہ پنساری بلڈرس کا پرجاپتی کمپلکس، گوکل دھام کنسٹرکشن اور بلڈرس کا گوکل دھام ، ماں کلیانی بلڈکون(پی) لمیٹیڈ کا پتامبرا انکلیو، سائیں کنسٹرکشن کا سائیں نو کانتی کمپلکس، راج کنسٹرکشن کا راج کمپلکس، سائیں ڈیولپرس کا سائیں نو کانتی کمپلکس ایسے پروجیکٹ ہیں جن کو نیا پروجیکٹ دکھلایا گیا ہے جبکہ یہ زیر تکمیل پروجیکٹ ہیں ۔ اسی طرح کچھ کو نیا پروجیکٹ کی شکل میں جمع کیا گیا ، جب ہمارے افسران کے ذریعہ اس کی طبعی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ نئے پروجیکٹ نہیں ہیں اور اس پر تعمیر کا کام چل رہا ہے ۔ ان میں منڈاوی بلڈرس کا ساکیٹ ویہار، ستکار بلڈرس کا کلپترو، راجیش کمار کا جنک نندنی اپارٹمنٹ، کٹیانی ڈیولپرس کا رام ہیریٹیج ، شری بالاجی کنسٹرکشن ،گیا کا ایم ایچ سیٹی( مگدھ کالونی) کے نام شامل ہیں ۔ جانچ کے دوران کچھ پروجیکٹ کا پتہ ہی نہیں چلا اور ان کا پتہ دوسرے مقامات پر چلا ان میں پلمین بلڈکون (پی) لمیٹیڈ کا سرسوتی ہائیٹس، کلاکرتی کنسٹرکشن (پی) لمیٹیڈ کا کلاکرتی کا نام شامل ہے ۔ افضل امان اللہ نے مزید بتایا کہ بہار میں رئیل اسٹیٹ سیکٹرکی نگرانی کے بعد یہ پتہ چلا کہ ریاست بہار میں رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کے بدمعاش پروموٹرس؍ ْ بلڈرس کے ذریعہ بڑے پیمانہ اپنے غلط مقاصد کے حصول کیلئے غلط معلومات اور جوٹے وعدے کی بنائ پر زمین اور اہپارٹمنٹ کا مارکیٹگ اور سیل کیلئے انٹرنیٹ سہولیات ؍ ویب ساائٹ؍ ویب پیج کے ذریعہ بہت زیادہ غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسے بدمعاش پروموٹرس؍ ْ بلڈرس کو پکڑ پانا اسلئے مشکل ہو پارہا ہے کہ سرکاری اتھاریٹیز کے ذریعہ ویب سائٹ اور ویب پیج کے قلیل نگرانی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوپارہا ہے ۔ اس کے باوجو د جب کبھی اسیے غیر رجسٹرڈ پروموٹرس؍ ْ بلڈرس کے تعلق سے اشتہارات کو دیکھا جاتا ہے تو انکو وجہ بتائو نوٹس دیکر انکو انفرادی سماعت کیلئے طلب کیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگ یہ کہ بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ انکو اسیے کسی بھی قانون کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے اور اٹھاریٹی کے کہنے پر غیر مستقل طور پر ویب سائٹ ہٹا تے ہیں جبکہ اپنے ویب سائٹ کو بالکل ہی ہٹا دینا چاہئے مگر وہ ایسا اسلئے کرتے ہین تاکہ اپنے صارفین کو مطئین کرسکے ۔ افضل امان اللہ نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ کوئی بھی زمین ، پلاٹ اور اپارٹمنٹ ویسے بلڈرس سے نہیں خریدا جائے جو ریرا سے رجسٹر ڈ نہیںہے۔ زمین ؍ اپارٹمنٹ خریدنے سے پہلے متعلقہ رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کے بارے میں ریرا کے ویب سائٹس پر جانکاری حاصل کرلیں ۔ پریس کانفرنس میں ریرا کے ممبران ڈاکٹر سبودھ کمار سنہا اور ڈاکٹر آر بی سنہا موجود تھے