ملک کی معیشت ’صحیح‘ ہاتھوں میں نہیں:چدمبرم

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 19-August-2018

نئی دہلی : کانگریس نے اتوار کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت ’صحیح‘ ہاتھوں میں نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہترین ماہرین معاشیات بیچ میں ہی سرکار کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی دونوں حکومتوں اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی پرانی اور موجودہ حکومت کی معیاد کار میں معاشی ترقی (جی ڈی پی) کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت میں معیشت اور نظم ونسق’صحیح‘ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی مدت کار میں معیشت اور انتظام دونوں ہی صحیح ہاتھوں میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مشہور ماہرین معاشیات کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن یہ حکومت انہیں ڈھونڈ نہیں پائی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ممالک سے کئی بہترین ماہرین معاشیات ہندوستان آچکے ہیں اور وقفے وقفے سے کسی نہ کسی وجہ سے واپس لوٹ چکے ہیں۔

مسٹر چدمبرم نے الزام لگایا کہ مودی حکومت میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی لاگو کئے جانے سے لوگ ’ٹیکس دہشت گردی‘ کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس دہشت گردی کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جی ایس ٹی کی خامیوں کی وجہ سے ایک شخص کو مہینے میں تین تین بار سال میں 37 ٹیکس رٹرن بھرنے پڑرہے ہیں۔ اگر اس شخص کا کاروبار ملک کے مختلف حصوں میں ہوتو ٹیکس رٹرن کی یہ تعداد سینکڑوں میں ہوگی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ ٹیکس دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟