میجر گوگوئی پر تادیبی کارروائی، ہوسکتا ہے کورٹ مارشل

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 28-August-2018

نئی دہلی، 27اگست (جاویداحمد) فوج کی کورٹ آف انکوائری نے جموں ۔کشمیر میں سری نگر کی ایک مقامی لڑکی کے ساتھ ہوٹل میں جانے کی کوشش کرنے والے میجر لیتل گوگوئی کو ضابطوں کی خلاف ورزی کا قصوروار پایا ہے ۔ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے اور اس معاملے میں انہیں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔فوج نے پیر کو کہاکہ میجر گوگوئی کو مہم کے علاقہ میں ڈیوٹی کے مقام سے دور رہنے اور ہدایات کے خلاف مقامی لوگوں سے میل ملاپ کا قسصوروار ٹھہرایا ہے۔ ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اب اس معاملہ میں ثبوتوں کی بنیاد پر اہل افسران ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔میجر گوگوئی 23مئی کو ایک مقامی لڑکی کو اپنے ساتھ سری نگر کے ممتا ہوٹل میں لے جانا چاہتے تھے لیکن ہوٹل کے اسٹاف کے اعتراض کرنے کے بعد ان کی ملازمین کے ساتھ کہا سنی ہوئی۔ اس کے بعد انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس معاملہ کی جانچ کے لئے کورٹ آف انکوائری قائم کی گئی تھی۔ کورٹ آف انکوائری نے اپنی جانچ میں انہیں ضابطوں کی خلاف ورزی کا قصوروار پایا ہے۔خیال رہے کہ میجر گوگوئی دو برس پہلے اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب لوک سبھا ضمنی انتخابات کے لئے بڈگام ضلع میں انتخابی ڈیوٹی پر جارہے سلامتی اہلکاروں کی حفاظت کے لئے انہوں نے ایک مقامی نوجوان کو ڈھال کے طورپر اپنی جیپ کے آگے باندھ لیا تھا جس سے کہ شرپسند عناصر انتخابی اسٹاف پر پتھراو نہ کرسکے۔ جانچ کے بعد انہیں اس معاملے میں کلین چٹ دے دی گئی تھی۔53راشٹریہ رائفلس میں تعینات میجر گوگوئی کو دہشت گردی کے خلاف مہمات میں اچھی کارکردگی کے لئے گزشتہ برس آرمی چیف کی توصیفی سند سے نوازا گیا تھا۔سری نگر ہوٹل معاملہ کے سامنے آنے کے بعد آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہاتھا کہ اگر میجر گوگوئی نے غلطی کی ہے تو انہیں ایسی سخت سزا دی جائے گی جو مثال ہوگی۔