اساتذہ ذمہ داری کے ساتھ طلباکی بہتری کے لئے کام کریں :پرنسپل

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-September-2018

جالے ( نمائندہ ) نئی نسل کے مستقبل کو صحیح سمت دینے کے لئے اساتذہ کو نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا بلکہ انہیں اپنے عمل وکرار سے یہ ثابت کرنے کی فکر کرنی ہوگی کہ وہ استاد کی حیثیت سے نئی نسل کے بہتر تعلیمی مستقبل اور ان کی کردار سازی کے لئے پوری طرح سنجیدہ و ایماندار ہیں کیونکہ اس کااحساس کئے بغیر اخلاقی اور تعلیمی زوال کے اس خطرناک دور میں ہمارے لئے آگے بڑھنے کی راہیں کمزور ہو جائیں گی یہ باتیں اسلامک مشن اسکول جالے کے ڈائریکٹر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے یوم اساتذہ کے موقع پر اسکول کے طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہیں انہوں نے کہا کہ آج 5 ستمبر کا دن یقینا ہمارے لئے خاص ہے کیونکہ ہم اس دن کو اساتذہ کا دن مانتے ہیں لیکن میں اس تاریخی موقع پر بس اتنا کہونگا کہ ایک استاذ ہونے کے ناطے میں کوشش کرونگا کہ آپ کو اس راستے پر لے جانے کا کام انجام دوں جو راستہ آپ کی کامیابی کی طرف جاتا ہو حالانکہ مجھے خوب احسا ہے کہ اس مقصد تک پہونچنا آج کے دور میں کوئی آسان نہیں انہوں نے کہا کہ میرے دل میں آپ سب کے لئے نیک خواہشات ہیں جن کو یقینی بنانے کے لئے میں خود اعتمادی کے ساتھ جد وجہد کرنے کا عہد کرتا ہوں تاکہ آپ کی منزل تک پہونچنے کا سفر آسان ہو سکے مولانا فیضی نے کہا کہ ہم آج جس عظیم شخصیت کی یاد میں یوم اساتذہ مناتے ہیں ان کے مجموعی کردار اور ان کی کوششوں کو یاد کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تب ہی کسی خوشگوار نتیجے تک رسائی ممکن ہو سکے گی ورنہ یہ دن رسمی ہوکر رہ جائے گا اسکول کے ڈپٹی ڈائریکٹر شعبان العارفین نے کہا آج کا یہ دن یقینا اساتذہ کے لئے لود احتسابی کا دن ہے اس لئے اس موقع پر ہمیں اپنے اندر کے اس احساس کو بیدار کرنا ہوگا جس سے طلبہ کا شاندار مستقبل جڑا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ہر استاد کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ محبت کے ماحول میں اپنے طلبہ کی اخلاقی و تعلیمی مستقبل کے لئے کام کرنے کے ساتھ طلبہ اور اساتذی کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کرے اسکول ٹیچر محترمہ گل صبا پروین نے بڑے جذباتی انداز میں طلبہ سے خطاب کی اور کہا کہ یہ دن جب جب آتا ہے ہمیں اپنی ذمہ داریاں یاد دلا کر خاموشی سے چلا جاتا ہے مگر نہ جانے کیوں ہم اپنے طلبہ کے خوش آئند مستقبل کے تئیں سنجیدہ نہیں ہو پاتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسکولوں کا تعلیمی معیار دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کیا کہ نئی نسل کو تعلیمی بحران سے نکالنے کے لئے ہمیں احساس ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا قابل ذکر ہے کہ یوم اساتذہ کے موقع پر طلبہ کو سروپلی رادھا کرشنن جی کی تاریخ اور ان کے ان عملی اقدامات سے طلبہ وطالبات کو واقف کرایا گیا جن کے اعتراف میں ہم یوم اساتذہ مناتے ہیں ۔