فن فنکار

انوراگ کشیپ سائنس داں بننا چاہتے تھے

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-September-2018

ممبئی،(یواین آئی)مشہور فلم ساز انوراگ کشیپ نے اپنی فلموں کے ذریعہ شائقین کے درمیان خاص شناخت بنائی ہو لیکن وہ فلم ساز نہیں ،سائنس داں بننا چاہتے تھے۔انوراگ کشیپ کی پیدائش 10ستمبر 1972 کو اترپردیش کے گورکھپور میں ہوئی تھی۔ان کے والد اترپردیش پاور کارپوریشن میں کام کیا کرتے تھے۔انوراگ نے گوالیار کے سندھیا اسکول میں اپنی پڑھائی کی ۔اسی دوران ان کا رجحان پڑھائی کی طرف بڑھتا گیا اور انہیں جو بھی کتاب ملتی وہ اسے پڑھکر ختم کردیتے۔انوراگ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ سندھیا اسکول میں وہ اپنی کمزور انگلش کی وجہ سے اپنے بیچ میٹ سے گھل مل نہیں پاتے تھے۔اس وجہ سے انہوں نے اسکول کی لائبریری میں وقت گزارنا شروع کردیا۔وہ شروعاتی دور میں سائنس داں بننا چاہتے تھے۔اسی مقصد سے انہوں نے دہلی کے ہنس راج کالج میں داخلہ لیا۔1993میں انہوں نے گریجویشن پڑھائی پوری کی۔1997میں انوراگ کو فلم ستیا کےلئے بیسٹ اسکرین پلےکےلئے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔2007میں ان کی ہدایت میں بنی فلم بلیک فرائی ڈے ریلیز ہوئی۔فلم کچھ خاص کمال نہیں دکھا سکی لیکن مبصرین کو بے حد پسند آئی۔وہ شرت چندر کے مشہور ناول دیوداس سے بےحد متاثر تھے اور انہوں نے اسے جدید رنگ دے کر بڑے پرڈے پر دیو ڈی کے طورپر پیش کیا۔2009 میں ریلیز ہوئی یہ فلم بےحد کامیاب رہی۔2009میں انوراگ کشیپ نے فلم ڈائریکشن کے شعہ میں بھی قدم رکھ دیا۔2010 میں انوراگ کشیپ نے اڑان بنائی۔فلم ٹکٹ کھڑکی پر بےحد کامیاب رہی۔2012 میں انوراگ کشیپ نے گینگس آف واسے پور 2بھی ریلیز ہوئی ۔2014میں انوراگ نے ہنسی تو پھنسی جیسے کامیاب فلم بنائی۔2015 میں بامبے ویلویٹ بھی ریلیز ہوئی مگر یہ فلم باکس آفس پر مسترد کردی گئی۔

About the author

Taasir Newspaper