اُتراکھنڈ ہائی کورٹ کا فیصلہ پرسنل لا میں مداخلت، :آل انڈیا امام کونسل

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 03-September-2018

نئی دہلی2ستمبر(آئی این ایس انڈیا)آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ : ’’اُتراکھنڈ ہائی کورٹ کا پنچایت کے فیصلہ کو ’’فتوی‘‘ قرار دینا لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ فتوی خالص شرعی حکم کی حقیقی تشریح کا نام ہے ۔ اس پر عمل کرنا ایک ایمان والے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس پر کسی بھی طرح کی کوئی بھی پابندی مسلمانوں کو کبھی بھی کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے‘‘۔قومی صدر مولانا احمد بیگ نے کہا کہ :’’کسی بھی معاملہ میں پنچایت کے فیصلہ کو ’’فتوی‘‘ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ اور اگر کسی سند یافتہ معتبر مفتی نے کسی معاملہ میں فتوی دیا تو اس پر عمل کرنا ایک اختیاری عمل ہے ۔ مگر فتوی کے خلاف حکومت یا عدالت کی مداخلت، پرسنل لا میں مداخلت ہے۔ جسے کوئی مسلمان کبھی قبول نہیں کرے گا ‘‘۔قومی صدر نے یہ بھی کہا کہ : ’’اُتراکھنڈ ہائی کورٹ فوراً اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے۔ کوئی بھی ایسا مسئلہ جو پرسنل لا سے متعلق ہو ، اس کو مسلم رہنماؤں کے حوالے کرے۔ خیر خواہی یہ نہیں کہ ہر چیز پر پابندی عائد کردی جائے ؛ بلکہ حل یہ ہے کہ ہر معاملہ کو صحیح ڈھنگ سے دستوری اختیارات کی روشنی میں حل کیا جائے۔ عدالت کو پرسنل لا میں مداخلت سے پرہیز کرنا چاہیے‘‘۔ ’’اس لیے آل انڈیا امامس کونسل مرکزی حکومت اور عدالت عظمی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر اُتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت کرے اور اس کو واپس لینے کی ہدایات جاری کریں ؛ تاکہ پرسنل لا سے متعلق مسلمانوں میں پائی جانے والی بے اطمینانی کو ختم کیا جاسکے۔