دہلی

ایس سی /ایس ٹی قانون کے تحت درج معاملہ میں یواین آئی ایڈیٹر کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں خارج

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 30-September-2018

نئی دہلی – (یواین آئی)دہلی ہائی کورٹ نے درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے متعلق قانون کے تحت ملک کی معروف خبررساں ایجنسی یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا(یواین آئی)کے سابق ایڈیٹر اور موجودہ ایڈیٹر کے خلاف دائر اپیل جھوٹ کا پلنداقراردیتے ہوئے خارج کردی ہے ۔

جسٹس مکتا گپتا کی یک رکنی بنچ نے اس معاملہ میں ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلہ کے خلاف درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے ایک ملازم ویریندر ورما کی اپیل حال ہی میں خارج کردی ۔انھوں نے کہاکہ اس معاملہ میں ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ درست ہے اور وہ اس معاملہ میں کوئی مداخلت نہیں کریں گی۔

ویریندرورما نے یواین آئی کے اس وقت کے ایڈیٹر نیرج واجپئی ،موجودہ ایڈیٹر اشوک اپادھیائے اور اس وقت کی یونین کے ایک عہدے دار کے خلاف ایس سی /ایس ٹی پر مظالم کی روک تھام سے متعلق قانون 1989کی دفعہ 3(1)(10)کے تحت استحصال کا مقدمہ درج کرایاتھا۔ویریندر کا الزام تھاکہ اسے مسٹر واجپئی کے کمرے میں فون کرکے بلایاگیاتھا اور وہاں اسکی ذات کے تعلق سے الفاظ کا استعمال کرکے گالی گلوج کی گئی تھی۔نچلی عدالت نے معاملہ کی تفصیلی سماعت کے بعد عرضی خارج کردی تھی اور سبھی ملزمان کو بری کردیاتھا۔

نچلی عدالت نے عرضی گزار کے درج بیان اورصورت حال سے متعلق شواہد میں یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے عرضی خارج کردی تھی۔مثلا،نچلی عدالت نے شکایت میں بیان کی گئی فون کال اور عرضی گزار کے کال ڈاٹا ریکارڈس(سی دی آر )کو ملانے کے بعد پایاتھا کہ مسٹر واجپئی کے ذریعہ کال کرکے عرضی گزار کو کمرے میں بلائے جانے اور ذات سے متعلق الفاظ کے استعمال اورگالی گلوج کرنے کی بات جھوٹی تھی ،کیونکہ جس فون کال سے کمرے میں بلائے جانے کا دعوی عرضی گزار نے کیاتھا ،اسکی سی ڈی آر میں موبائل کا لوکیشن گڑگاؤں کے مہراسنس جوئیلرز اور ڈی ایل ایف سٹی تھا،ایسی صورت میں عرضی گزار کا فورا مسٹر واجپئی کے کمرے میں پہنچ پانا ہرگزممکن نہیں تھا۔عرضی گزارنے نچلی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیاتھا۔

جسٹس گپتا نے اس معاملہ میں شواہد کی بنیاد پر نچلی عدالت کے فیصلہ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ عرضی گزار کی اپیل نامنظور کی جاتی ہے ۔انھوں نے کہا،’’مدعا الیہان کو بری کئے جانے سے متعلق نچلی عدالت کے فیصلے کو بدنیتی پر مبنی قطعی نہیں کہاجاسکتا اور اس میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔‘‘

جسٹس گپتانے اس معاملہ کے ایک گواہ سمریندر کانت پاٹھک کی گواہی کو نظرانداز کرنے کے نچلی عدالت کے فیصلہ کوبھی سراہا اور کہاکہ نچلی عدالت نے موجودہ مقدمہ میں ’دیا بھٹناگر معاملہ ‘میں طے کی گئی ہدایت پر صحیح طریقہ سے عمل کیا ، جس میں واضح کیاگیاتھا کہ ایس سی /ایس ٹی قانون کی اس دفعہ کے تحت آس پاس کے لوگوں کا بیان اہم ہوگا ،بشرطیکہ یہ لوگ غیر جانبدار ہوں ۔ایسے گواہوں کا متاثرہ شخص سے کسی طرح کی قربت یاتعلق نہ ہو۔

ہائی کورٹ نے بھی ویریندر ورما اور سمریندر کانت پاٹھک کے مابین میل جول اور قربت کے پہلوؤں کو تسلیم کیاہے ،کیونکہ ان دونوں نے اپنے بیان میں قبول کیاتھا کہ یہ دونوں اس واقعہ سے پہلے ایجنسی کی طرف تادیبی کارروائی کا سامنا کررہے تھے ۔دونوں نے یہ بھی قبول کیاتھا کہ وہ ایجنسی کے عہدیداروں کے خلاف چلائی جارہی ’یواین آئی بچاؤ تحریک ‘کا حصہ رہے ہیں ۔ان سب کے مدنظر سمریندر کانت کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے ہوئے ۔

About the author

Taasir Newspaper