باہمی رضامندی سے ہم جنس پرستی جرم نہیں: سپریم کورٹ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-September-2018

نئی دہلی  (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک تاریخی فیصلے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 377 کے التزامات کومنمانااور غیر منطقی قرار دیتے ہوئے دو بالغوں کے درمیان باہمی رضامندی سے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر نکال دیا۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كکھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس روہنگٹن ایف نریمن اور جسٹس اندو ملہوترا کی آئینی بنچ نے دفعہ 377 کے التزامات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کا مشترکہ طور پر تصفیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایل جی بی ٹی طبقہ کو ہر وہ حق حاصل ہے، جو ملک میں کسی عام شہری کو حاصل ہے۔اس معاملے میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس روہنگٹن ایف نریمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا نے الگ الگ مگر رضامندی کا فیصلہ سنایا۔ عدالت کا کہنا تھا، دفعہ 377 کے کچھ التزامات غیر منطقی اور من مانے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے۔

آئینی بنچ نے رقاص نوتیج جوہر، صحافی سنیل مہرا، شیف ریتو ڈالمیا، ہوٹل کاروباری امن ناتھ ، کیشو سوری اور کاروباری عائشہ کپور اور انڈین ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ٹی) کے 20 سابق اور موجودہ طالب علموں کی درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ ان سب نے دو بالغوں کی طرف سے باہمی رضامندی سے ہم جنسی تعلقات قائم کرنے کو جرم کے دائرے سے باہر رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے دفعہ 377 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔سب سے پہلے چیف جسٹس نے خود اور اپنے ساتھ جسٹس کھانولکر کی جانب سے اپنا فیصلہ سنایا اور کہا کہ ملک میں سب کو برابری کا حق ہے۔ سماج کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی شخص اپنی شخصیت سے بچ سکتا نہیں۔ سماج میں ہر کسی کو جینے کا حق ہے۔ جسٹس مشرا نے کہا، ہمیں پرانی روایات کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ایل جی بی ٹی کمیونٹی کو ہر وہ حق حاصل ہے جو ملک کے کسی عام شہری کو ملا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے۔آئینی بنچ نے عام رضامندی سے 158 سال کی پرانی تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے اس حصے کو منسوخ کر دیا جس کے تحت باہمی رضامندی سے غیر فطری جنسی تعلقات جرم تھا۔ عدالت نے تاہم، جانوروں اور بچوں کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات بنانے کے جرم کے معاملے میں دفعہ 377 کے ایک حصے کو پہلے کی طرح جرم کے زمرے میں قائم رکھا ہے۔عدالت نے کہا کہ دفعہ 377 ایل جی بی ٹی کے ارکان کو پریشان کرنے کا ہتھیار تھا، جس کی وجہ سے اس سے امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایل جی بی ٹی طبقہ کو دوسرے شہریوں کی طرح یکساں انسانی اور بنیادی حقوق حاصل ہیں۔جسٹس نریمن نے الگ سے سنائے گئے فیصلے میں اس طرح کے جنسی رجحانات کو نامیاتی صوت حال بتاتے ہوئے کہا کہ اس بنیاد پر کسی بھی طرح کا امتیاز بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور جہاں تک کسی ذاتی مقام پر باہمی رضامندی سے غیر فطری جنسی تعلقات بنانے کا سوال ہے تو نہ نقصان دہ ہے اور نہ ہی معاشرے کے لئے متعدی ہے۔جسٹس نریمن نے اپنے فیصلے میں حکومت اور میڈیا گروپوں پر زور دیا کہ وہ عدالت عظمی کے اس فیصلے کا وسیع پیمانے پر تشہیر کریں تاکہ ایل جی بی ٹی کمیونٹی کو امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔قابل ذکر ہے کہ ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر رکھنے کا مسئلہ پہلی بار غیر سرکاری تنظیم ناز فاؤنڈیشن نے 2001 میں دہلی ہائی کورٹ میں اٹھایا تھا۔ ہائی کورٹ نے 2009 میں اپنے فیصلے میں دفعہ 377 کے التزامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایسے رشتوں کو جرم کے دائرے سے باہر کر دیا تھا، لیکن ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سریش کوشل وغیرہ نے عدالت عظمی میں چیلنج کیا تھا، جس نے 2013 میں ہائی کورٹ کے ، فیصلے الٹ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے دائر درخواست کو خارج کردیا تھا ۔ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے بارے میں دائر کریکٹیو پیٹیشن اب بھی زیر التواء ہیں۔آئینی بینچ نےنوتیج جوہر اور دیگر کی طرف سے علیحدہ سے دائر رٹ پٹیشن کی چار دن کی مسلسل سماعت کے بعد گزشتہ 17 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے کہا تھا کہ اگر کوئی قانون بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو وہ اس بات کاانتظار نہیں کرے گی کہ حکومت کو اسے منسوخ کرے ۔ عدالت عظمی نے کہا تھا، اگر ہم ہم جنس پرستی کو جرم کے دائرے سے باہر بھی کرتے ہیں، تب بھی کسی سے جبرا ًہم جنسی پرستی جرم ہی رہے گا۔کورٹ نے کہا تھا، ناز فاؤنڈیشن معاملے میں 2013 کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اس میں آئینی مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ دو بالغوں کے درمیان جسمانی تعلقات کیا جرم ہے، اس بات پر بحث ضروری ہے ۔ اپنی مرضی سے کسی کو منتخب کرنے والوں کو خوف کے ماحول میں نہیں رہنا چاہئے۔