بصرہ میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری دفاتر نذر آتش کر دیے

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 08-September-2018

بغداد(اے یو ایس ) عراق کے تیل پیدا کرنے والے جنوبی شہر بصرہ میں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی پر تشدد مظاہرے ہوئے اور مشتعل لوگوں نے سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی۔مظاہرین شہر کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت نہ ہونے پر اپنی برہمی کا اظہار کر رہے تھے۔پیر کے روز مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے اب تک سیکیورٹی فورسز کی جا نب سے فائرنگ کے نتیجے میں 8 مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔سیکیورٹی فورسز کے 10 اہل کاروں کے بھی زخمی ہو نے کی اطلاعات ہیں جنہیں اسپتال ذرائع کے مطابق دستی بموں سے زخم آئے ہیں۔جمعرات کو مظاہرین نے صو با ئی حکومت کی کئی عمارتوں اور مقامی حکومت کے ہیڈکوارٹرز کو آگ لگا دی اور شہر کی مرکزی سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔مظاہرین نے سرکاری ٹیلی وڑن اسٹیشن عراقیہ کو بھی نذر آتش کر دیا اور حکمران جماعت دعویٰ پارٹی کے ہیڈکوارٹرز کو بھی جلا ڈالا۔مظاہرین نے عراق کی طاقت ور شیعہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے دفتروں کو بھی آگ لگائی اور بصرہ سے تقر یباً 60 میل شمال میں حکما موومنٹ کے مرکز پر بھی دھاوا بولا۔مقامی پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی عمارتیں شعلوں کی لپیٹ میں ہیں۔ مقامی عہدے داروں نے تشدد پر قابو پانے کے لیے شہر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔