بھارت بند سے بہار بھی رہا متاثر

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-September-2018

 نئی دہلی؍پٹنہ (تاثیر بیورو): درج فہرست ذات وقبائل (مظالم روک تھام) ترمیمی ایکٹ کے خلاف کئی ریاستوں میں اونچی ذاتوں کے لوگ مورچہ بند ہوگئے ہیں۔ مذکورہ ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو لے کر اونچی ذات کی مختلف تنظیموں نے جمعرات کے روز بھارت بند کا اعلان کیا تھا ۔ بند کا سب سے زیادہ اثر اتر پردیش ، مدھیہ پردیش اور بہار میں دیکھا گیا۔ یوپی اور مدھیہ پردیش میں ریاستی حکومت کے ذریعہ احتیاط کے طور پر کئی ضلعوں میں حکم امتناعی نافذ ہے۔ بہار کے مختلف علاقوں سے مارپیٹ کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ بہار اور اترپردیش میں کئی جگہوںپر ٹرینوں کو روکے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ کئی ضلعوں میں مشتعل مظاہرین نے نیشنل ہائی وے کو جام کیا۔ راجدھانی پٹنہ سمیت کئی ضلعوں میں دکانیں بند ہیں۔ آرہ، مونگیر اور دربھنگہ میں بھی ٹرینیں روکی گئیں۔ کئی مقامات پر بند کی وجہ سے عام زندگی بری طرح متاثر رہی۔

پٹنہ سمیت ریاست کے تقریباتمام اضلاع میں اعلیٰ ذاتوں کی تنظیموں کے کارکنان صبح سے ہی سڑکوں پراتر آئے تھے ۔ بند کے حامیوں نے کئی مقامات پر ریلوے خدمات کو روک دیا ، وہیں سڑکوں پرآگ زنی کر کے ٹریفک کو بند کر دیا گیا ۔ بند کی وجہ سے ریاستی اور قومی شاہراہوںپر ریاست کے متعدد اضلاع میں کئی کلو میٹر تک لمبا جام نظر آیا۔راجدھانی پٹنہ کے انتہائی مصروف ڈاک بنگلہ چوراہے پر مظاہرین نے ٹریفک کو پور ی طرح معطل کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ راجدھانی انکم ٹیکس گولمبر سمیت کئی اہم شاہراہوں پر مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک کو جام کردیا ہے۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی، اور اس ترمیمی ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ بھارت بند کے پیش نظر راجدھانی پٹنہ سمیت اکثر اضلاع میں پرائیوٹ اسکولوں نے چھٹی کا اعلان کردیا تھا ۔ اعلیٰ طبقات کی تنظیموں کے بند کو دیکھتے ہوئے پٹنہ سمیت پوری ریاست میں سکیورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔ بھارت بند کے حامیوں نے پٹنہ راجندر نگر ٹرمینل تک مظاہرہ کیا اور ریلوے خدمات میں خلل ڈالا۔ اس کے علاوہ، دربھنگہ، آرہ، جہان آباد، گیا،بیگو سرائے، نوادہ،مونگیر میں مظاہرین نے ریلوے خدمات کو معطل کر دیا ۔ اس کی وجہ سے پسنجر ٹرینوں کے علاوہ لمبی دوری کی متعدد ایکسپریس ٹرینیں الگ الگ اسٹیشنوں پر کھڑی رہیں۔جہان آباد میں ایس سی-ایس ٹی ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج میں کے دوران حامیوں نے ارول موڑ کے نزدیک قومی شاہراہ -83 اور 110 کوجام کر دیا۔ اس دوران، مظاہرین نے کئی گاڑیوں کے ٹائرکی ہوا بھی نکال دی جس کے نتیجے میں مسافروں اور مظاہرین میں نوک جھونک بھی ہوئی ۔نوادہ سے موصول خبروں کے مطابق،اس ایکٹ کے خلاف میں بھارت بند کا ضلع میں وسیع اثر دیکھنے کو مل رہاہے ۔مشتعل مظاہرین نے ضلع کے کئی مقامات پر اہم سڑکوں کو جام کردیا ہے۔ مظاہرین سڑکوں پر آگ زنی کر کے ہنگامہ کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے، پٹنہ- رانچی روڈ پر گاڑیوں کی آمد ورفت ٹھپ ہو گئی ہے ۔ہنگامہ کی وجہ سے مسافروں کو دقتوں کاسامنا کرنا پڑ رہاہے ۔بھاگلپور سے موصولہ اطلاع کے مطابق ضلع کے سلطان گنج میں بھارت بند کے تحت اونچی ذات کے لوگوں نے سڑک جام کر مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے اثر گنج ۔ شاہ کنڈ مین روڈ کو جام کر دیا ۔ مظاہرین نے کئی جگہوں پر آگ زنی کرکے آمدورفت کو پوری طرح ٹھپ کر دیا ہے ۔ بند کے حامی مظاہرین مرکزی حکومت سے ایس سی ۔ ایس ٹی ایکٹ پر سپریم کورٹ کی ہدایت کو بحال کرنے کی مانگ کر رہے ہیں ۔بہار شریف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق،بھارت بند کا نالندہ میں بھی زبردست اثر دیکھا جا رہا ہے۔بہار شریف میں سورن شکتی منچ کے کارکنا ن سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں ۔نیشنل ہائی وے 31 سمیت کئی مقامات پر کارکنوں نے آگ زنی کرکے سڑک کو جام کردیا، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔جام کی وجہ سے کئی اسکول بسوں کو واپس لوٹنا پڑا ۔ بند کے سبب راج گیر سے چلنے والی شرم جیوی ایکسپریس اور دیگر پسنجر ٹرینیں بھی متاثر ہوئی ہیں اور شہر میں بند کی وجہ سے دکانیں بھی بند رہیں۔آرہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق آرہ اسٹیشن پر بند کے حامیوں نے پٹنہ ۔ ممبئی کے درمیان چلنے والی لوک مانیہ تلک ایکسپریس کو کچھ دیرکیلئے روک دیا ۔ وہیں آرہ پرائیوٹ اسکول انتظامیہ نے احتیاطاً اسکولوں کوبند رکھاہے ۔ادھر اورنگ آباد ، گیا ، کیمور ، رہتاس میں بھی بند کا وسیع اثر دکھاہے، جہاں اونچی ذات کی تنظیموں کے کارکنان نے کئی جگہوں پر نیشنل ہائی وے کو جام کر دیا ۔ اورنگ آباد میں رمیش چوک ، بائی پاس ، جسوئیا ، راما باندھ کے سامنے لوگوں نے سڑک کو جام کر دیا ۔ گیا کے کونچ، آمس ، فتح پور ، وزیرگنج میں بند کا اثر دکھ رہا ہے، جہاں مظاہرین نے سڑک پر آگ زنی کر کے آمد ورفت کو بند کر دیا ہے ۔ گیا شہر میں بھی بند کا اثردکھ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلا ع میں بھی بند کا اثر رہا۔سہسرام سے موصولہ خبروں کے مطابق ضلع رہتاس کے ڈہری اون سون میں لوگوں نے انتہائی مصروف گرانڈ ٹرنک روڈ کو کئی جگہوں پر جام کر دیاہے ۔ بھارت بند کےحامی مظاہرین نے بھبھوا ۔ موہنیاں نیشنل ہائی وے نمبر 219 کو بھی جام کر دیا ہے ۔دربھنگہ میں بھی ۔ ایس سی ایس ٹی ترمیمی ایکٹ کے خلاف بند کا اثر نظرآیا ، جہاں مظاہرین نے دربھنگہ سے نئی دہلی جانے والی سپر فاسٹ ٹرین بہار سمپر ک کرانتی کو لہیریا سرائے کے چٹی چوک گمٹی کے پاس روک دیا۔ریاست کے لکھی سرائے ، مونگیر ، بیگو سرائے ، کھگڑیا سمیت دیگر اضلاع میںبھی بند کا اثر دیکھا گیاہے ۔ اسی طرح مدھیہ پردیش بھی بند کی وجہ سے متاثر رہا۔ ریاست کے ضلع کٹنی ، ویدیشا، سیہور ، دیوس ،اندور ، گوالیار، جھبوا ، چھتر پور،مندسور ،ساگر ، اوجین اور دیگر شہری علاقوں میں بند کا اثر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اترپردیش کے آگرہ شہر اور دیگر علاقوں  میں دکانیں بند نظر آئیں۔ مظاہرین نے ٹریفک کو جگہ جگہ بند کیا ۔مختلف مقامات سے پتھر بازی کی بھی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ راجستھان میں جئے پور ،کرولی، پرتاپ گڑھ ، اودئے پور ، پالی ،ناگور اور دیگر اضلاع میں دکانیں بند نظر آئیں ۔ بند کے مد نظر اسکولوں کو بند رکھا گیا۔

واضح ہو کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹے ہوئے ایس سی ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کر نے اور اس کو پھر سے بحال کرنے کے خلاف اعلی ذاتوں کی تنظیموں نے آج بھارت بند کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل ایس سی ،ایس ٹی ایکٹ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ ترمیم کا فیصلہ لئے جانے کے خلاف 2 اپریل کو مختلف دلت تنظیموں کے ذریعہ بند کا اعلان کیا تھا اس میں بھی بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔