بہار میں بھی ڈائل 100 سروس شروع،20منٹ کے اندر پہنچے گی پولس

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 26-September-2018

پٹنہ،(اسٹاف رپورٹر) :بہار میں بھی ڈائل 100 سروس نافذ ہوگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمارنے آج وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ واقع ’سنواد میں منعقد ’بہار پولیس پبلک یوٹیلیٹی ڈائل 100‘ پروگرام کا ریمورٹ کے ذریعہ افتتاح کیا ۔ پولیس ہیڈ کوارٹر کے اے ڈی جی جناب ایس کے سنگھل نے ڈائل 100 کے بنیادی خاکے ، اس کااثر ، مستقبل کا منصوبہ اور اس کے فوائد کے علاوہ سشاسن کے بارے میں ڈائل 100 کے کر دار وغیرہ سے متعلق پاور پوائنٔٹ پر زنٹیشن وزیراعلیٰ کے سامنے دیا ۔ ڈی جی پی کے ایس درویدی نے گلدستہ پیش کر کے وزیر اعلیٰ کا خیر مقدم کیا ۔پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ آج سے پبلک یوٹیلیٹی ڈائل100 خدمات کا افتتاح کیا گیا ہے ۔ ویسے تو پٹنہ ضلع میں 100 نمبر سال 2014 سے ہی نافذ ہے ، جس کی تو سیع کر کے پورے بہار میں اسے آج سے نافذ کیاگیا ہے ۔12کروڑ کی آباد ی والے اس بہار میں 8.5 کروڑموبائل فون ہیں ۔ ایسے میں اگر کہیں سے کوئی شکایت آتی ہے تو اس کی اطلاع متعلقہ ضلع کے تھانہ تک پہنچنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی تکنیک کے سہارے اس کا خاکہ اور جدید کاری ہو نی چاہئے۔ تمام تھانوں اور آئوٹ پوسٹ تک لینڈ لائن فون لگے اسے پولیس ہیڈ کوارٹر کو یقینی بنا نا ہو گا ۔ فون نمبر فنکشن رہے اس کے لیے خراب ہو نے پر آدھے گھنٹے کے اندر اسے درست کر نے اور وقت پر بل کی ادائیگی کا بھی انتظام پولیس ہیڈ کوارٹر کی سطح سے یقینی ہو نا چاہئے تاکہ یہ خدمت مستقل ، مضبوط اور موثربنے۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ لا اینڈ آرڈر اور جرائم کو لے کر میری سطح سے وقتا فوقتا جائزہ میٹنگ ہو تی رہتی ہے ۔ اس بارے میں حال ہی میں جائزہ میٹنگ کی تھی، جس میں ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے تمام اضلاع سے پولیس اور انتظامی افسران جڑے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہی ہم نے کہا تھا کہ قتل ، لوٹ ، آبرو ریزی ، بنک ڈکیتی اور دیگر مجرمانہ واقعات کا تخمینہ، تفصیل میں ضلع اور تھانہ کی سطح پرہوناچاہئے ، جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کسی خاص علاقہ میں کس طرح کے واقعات بار بار ہو تے رہتے ہیں ۔ اس کے حل کے لیے مثبت سمت میں کارروائی کی جاسکے ۔ واقعہ کب رونما ہوا ، اس پر کتنے وقت کے اندر کارروائی ہوئی ، واقعہ کے مقام پر اطلاع ملنے کے بعد پولیس کتنی دیر میں پہنچی ان تمام پہلووں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پولیس افسران کو تحقیق کر نی چاہئے ۔ اس کا جرائم پیشوں پر اثر پڑتا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کل بالو ما فیا اورشراب کے غیر قانونی دھندے میں لگے سماج دشمن عناصر پولیس پر ہی حملہ کر رہے ہیں ۔ اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایسے لوگوں سے سختی سے نپٹنے کی ضرورت ہے ۔ ایسی جگہوں پر جاتے وقت پولیس کو ضرورت کے مطابق فورس کو بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ سال 2005 میں جب ہم نے اقتدار سنبھالا تھا تو پولیس فورس کی تعداد کافی کم تھی ، پولیس تھانوں میں مناسب اسلحہ اور گاڑی نہیں تھی ۔ گاڑیاں دھکا لگا کر اسٹارٹ ہو تی تھیں ۔ پولیس میں ڈریس کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ ہم نے کئی سطح پر کام کئے جس کا مثبت نتیجہ نکلا ۔ضرورت کے مطابق پولیس فورس کا انتظام یقینی بنا کے ساتھ ہی اسلحہ ، گاڑی ، پوشاک مہیا کرائے گئے ۔ اس وقت دیکھاگیاکہ بہار میں آرگنائزڈکرائم بھی ہو تے تھے ، جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیپ کی تشکیل کی گئی ۔ اس میں ریٹائرڈ آرمی کے لوگوں کو رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہم نے سال 2006 میں ہی ایک میٹنگ کی تھی ، جس میں پروپر پٹرولنگ کرنے کی بات کہی تھی ۔ پٹرولنگ اپنے آپ میں اہم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر تھانے اور آئوٹ پوسٹ پر دودوگاڑی ہو نی چاہئے ۔ ہر تھانہ کے پاس ایسی گاڑی اور اسلحہ ہو نا چاہئے کہ وہ بہتر طریقہ سے کام کر سکے ۔ تھانہ اور اوپی سے لے کر ایس پی ، آئی جی ، یا آئی جی سطح تک کے افسران کو بھی اگرگاڑی کی ضرورت ہو تی ہے ، پولیس مشینری اسے طے کرے کہ کتنے موٹل سائیکل ، فور وہیلر کی ضرورت ہے۔ انہو ں نے کہا کہ پٹرولنگ پر پوری توجہ ہو نی چاہئے ۔ اس کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہو گی حکومت دینے کے لیے تیار ہے ۔ ہر صورت میں قانون کا راج قائم رکھنا ریاست کی آئنی ذمہ داری ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نظم و نسق کرائم اور دیگر ایشوز کے بارے میں ہر ماہ میں چیف سیکریٹری ، ڈی جی پی اور داخلہ سیکریٹری ، جبکہ ہر 15 دن پر دی ایم اور ایس پی کے ذریعہ جائزہ میٹنگ ہونی چاہئے تاکہ تعطل میں پڑے ایشوز کا فوری حل ہو سکے ۔ ڈی ایم اور ایس پی کے درمیان لیک آف کوآرڈینیشن کسی قیمت پر نہیں ہو نی چاہئے ۔ وہیں ہر سنیچر کو تمام تھانے کے تھانیدار اور سرکل افسر کی میٹنگ سنجیدگی کے ساتھ ہر صورت میں ہو نی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جنتا کے دربا ر میں وزیر اعلیٰ کے پروگرام کا اندازہ لگا یا گیاتو یہ پایا گیا کہ 60 فیصد جرائم زمین تنازع کے متعلق ہیں ۔ایسے معاملوں پر تیکھی نظر رکھنی ہو گی ۔ سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ مسلسل جائزہ میٹنگ کی جائیگی تو بہت سارے معاملوں کا نپٹارہ ہوسکے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب کہیں سے بھی کوئی شخص 100 نمبر ڈائل کرے گاتو اس پر فوری کارروائی ہو گی ۔ پولیس ہیڈ کوارٹر نے بتا یاکہ اطلاع ملنے کے بعد شہری علاقہ میں 20 منٹ کے اندر جبکہ دیہی علاقوں میں 30 سے 35 منٹ کے اندر کارروائی دیکھنے کو ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی آبادی کے مطابق پولیس فورس کی بھی تعداد میں بھی اضافہ کر نا چاہئے ۔ تمام تھانوں میں خواتین کے لیے سیٹنگ روم ، واش روم اور اجابت خانہ کا انتظام ہو نا چاہئے ۔ تھانہ اگر کرایہ کی عمارت میں ہے تو اسے مکمل پروکیور کر کے اس کی عمارت نئے سرے سے تعمیر ہو نی چاہئے ۔ ہم ہرطرح کی سہولت دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن عوام اور سرکار کی جو امیدہے وہ پوری شفافیت کیساتھ وقت پر پوری ہو نی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تھانوں میں پوسٹنگ کر تے وقت سوشل بیلنس کو ذہن میں رکھنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر تھانہ کا جائزہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ تھانہ دار سرگرم ہیں کہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی امیدیں بڑھتی چلی چارہی ہیں اس لیے سسٹم کو شفاف بنائیں تاکہ لوگوں کوکارروائی کے بارے میں بھی جانکاری ملے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قانون کا راج قائم کر نا ریاست کا آئینی فریضہ ہے اور اس کے لیے پولیس محکمہ کو قانوی طور پر حق حاصل ہے ۔ آپ کوجو قانونی حقوق دیے گئے ہیں، اس کاغلط استعمال نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ نظام فروغ پائے گا تو جرائم کر نے والے بھی سوچیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ15 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر جو اعلان کیا گیا تھا ڈائل 100 کے بارے میں اسے آج لاگو کیا کیا ہے ۔ اس پبلک یوٹیلیٹی سروس میں پولیس کے علاوہ آگزنی ، حادثہ ، آفات جیسے دیگر واقعات کو بھی کمیونیکٹنگ کر نیکی سمت میں کام کر نے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وسائل کی فکر کر نے کی ضرورت نہیں ہے اگر ہزار کروڑ روپے کی بھی ضرورت پڑے گی تو اسے مہیا کرایا جائے گا ۔پروگرام کو چیف سیکریٹری دیپک کمار ، ڈی جی پی کے ایس دیویدی اور داخلہ محکمہ کے پرنسپل سکریٹری عامر سبحانی نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع بہار پولیس عمارت تعمیرات کارپوریشن لمیٹیڈ کے سی ایم ڈی سنیل کمار، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری چنچل کمار ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری ونئے کمار، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری منیش ورما، اے ڈی جی پولیس ہیڈ کوارٹر ایس کے سنگھل ، اے ڈی جی نظم و نسق آلوک راج ، وزیر اعلیٰ کے اوایس ڈی گوپال سنگھ ، سمیت بہار پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت دیگر محکموں سے منسلک افسران موجود تھے۔