جنوبی کشمیر ابھی بھی ہمارا گڑھ ، گورنر بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے انعقاد پر کل جماعتی اجلاس بلائیں: محبوبہ مفتی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-September-2018

سری نگر ،  (یو ا ین آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا ہے کہ وادی کشمیر میں جنگجویت کا مرکز سمجھے جانے والا ‘جنوبی کشمیر ابھی بھی ان کی پارٹی کا گڑھ ہے۔انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے مطالبہ کیا کہ وہ اعلان شدہ بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے معاملے پر کُل جماعتی اجلاس بلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام اور سیاسی لیڈرا ن کے اذہان میں دفعہ 35 اے کو لیکر خدشات ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔محترمہ مفتی اتوار کے روز یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کررہی تھیں۔ جب ایک نامہ نگار نے پی ڈی پی صدر سے پوچھا کہ ‘جنوبی کشمیر جو پی ڈی پی کا گڑھ رہ چکا ہے، میں اس وقت حالات پیچیدہ ہیں ‘ تو انہوں نے مذکورہ نامہ نگار کے سوال کو روکتے ہوئے کہا ‘جنوبی کشمیر انشاء اللہ ابھی بھی ہمارا گڑھ ہے۔ یہ جنوبی ، شمالی یا وسطی کشمیر کی بات نہیں ہے۔ یہ پورے جموں وکشمیر کی بات ہے۔ سڑک ، پانی اور بجلی یہ تو سب پارٹیاں دیتی ہیں۔ سیاسی عمل اور مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے سیز فائر کیا گیا تھا اور اس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ نے مذاکرات کی پیشکش دی تھی، لیکن کہیں نہ کہیں وہ سلسلہ رک گیا۔ سیاسی عمل اور مذاکرات کو آگے چلانے کی ضرورت ہے۔محبوبہ مفتی نے پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے ہند و پاک دوستی پر سامنے آنے والے بیا نات پر کہا ‘عمران خان صاحب بار بار کہتے ہیں کہ میں ہند و ستان کے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ میں دو قدم چلنے کیلئے تیار ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی دوستی کی پہل کا جواب ہاتھ آگے بڑھا کر دینا چاہیے۔ تب ہی جموں وکشمیر میں امن ہوگا اور یہ خطہ ترقی کرسکتا ہے۔ پی ڈی پی صدر نے ریاستی گورنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اعلان شدہ بلدیاتی و پنچایتی انتخابا ت کے معاملے پر کُل جماعتی اجلاس بلائیں۔ انہوں نے کہا ‘اس وقت بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کی بات ہورہی ہے۔ میری حکومت میں بھی ان انتخابات کی بات چلی تھی۔ اس وقت میں نے کل جماعتی میٹنگ بلائی تھی اور وہاں یہ رائے قائم ہوئی تھی کہ ان انتخابات کے لئے حالات فی الحال ٹھیک نہیں ہیں۔ کیونکہ آپ بہت زیادہ لوگوں کو سیکورٹی نہیں دے سکتی ہو۔ تشدد ہوسکتا ہے۔ لوگ مارے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘آج بھی میں امید کرتی ہوں کہ گورنر صاحب تمام جماعتوں کے ساتھ مشورہ کرکے ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔ لوگوں اور جماعتوں کو خدشات ہیں۔ مشکل یہ ہوگئی کہ عدالت میں دفعہ 35 اے کو بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس کی وجہ سے ماحول مزید خرا ب ہوگیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ گورنر صاحب تمام جماعتوں کو بلاکر ان سے مشورہ کرکے کوئی فیصلہ کریں گے۔ بتادیں کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہفتہ کے روز اپنے تیور مزید سخت کرتے ہوئے دھمکی دی کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر مبینہ منصوبہ بند حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو ان کی جماعت ‘نیشنل کانفرنس مجوزہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئندہ اسمبلی و پارلیمانی انتخا بات کا بھی بائیکاٹ کرے گی۔ خیال رہے کہ گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں 31 اگست کو ہوئی ریاستی کونسل کی میٹنگ میں ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کو منظوری دی گئی ۔ریاستی کونسل نے فیصلہ لیا کہ میونسپل اداروں کے انتخابات چار مرحلوں میں کرائے جائیں گے اور پولنگ کی تاریخیں یکم اکتوبر 2018ء سے 5اکتوبر 2018 تک ہوں گی۔ اسی طرح پنچایتوں کے انتخابات 8 مرحلوں میں کرائے جائیں گے اور ان کی تاریخیں 8نومبر 2018ء سے لے کر 4دسمبر 2018 تک ہوں گی۔ کشمیر ی مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک بلد یا تی اور پنچایتی انتخابات کے بائیکاٹ کی پہلے ہی کال دے چکے ہیں۔ دفعہ 35 اے کے خلاف دائر متعدد عرضیاں اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔سپریم کورٹ نے ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کے پیش نظر دفعہ 35 اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت اگلے برس جنوری کے دوسرے ہفتے تک کیلئے ملتوی کر رکھی ہے۔