دہلی

جین منی ترون ساگرکاانتقال ، صدر و وزیر اعظم سمیت متعدد لیڈروں کےتعزیتی پیغام

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 01-September-2018

نئی دہلی : جین منی ترون ساگر کا ہفتہ کو علی الصبح یہاں انتقال ہو گیا۔ وہ 51 سال کے تھے۔

جین منی طویل عرصہ سے پیلیاسے متاثر تھے اور انہوں نے تقریباً 03.00 بجے مشرقی دہلی میں کے کرشنا نگر میں واقع رادھاپوري جین مندر میں آخری سانسیں لی۔

چھبیس جون 1967 کو مدھیہ پردیش کے ضلع دموہ ضلع میں پیدا ہوئے جین منی ترون ساگر کے جین فرقہ میں کافی پیروکار تھے۔

صدر رام ناتھ كووند، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر تجارت سریش پربھو نے جین منی کے انتقال پر شدیدرنج و غم کا اظہارکیا ہے۔

مسٹر كووند نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا “جین منی ترون ساگر کے انتقال کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا۔ اپنے ’کڑوے پروچن‘ کے لئے معروف جین منی نے سماج کو امن اور عدم تشدد کا پیغام دیا۔ ان کے پیروکاروں سے میری تعزیت‘‘۔

مسٹر مودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا’’منی ترون ساگر جی مہاراج کے ناگہانی انتقال سے گہرا دکھ ہوا۔ ہم ان کے اعلی آدرشوں، ہمدردی اور معاشرے میں تعاون کیلئے انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔جین فرقہ اور ان کے پیروکاروں سے میری تعزیت‘‘۔

مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا، “میں ترون ساگر جی مہاراج کے ناگہانی مهاسمادھی کے بارے میں سن کر حیران ہوں. وہ ایک تحریک دینے والی شخصیت تھے. ان کا نروان ملک کے سنت سماج کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔ میں منی مہاراج کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں‘‘۔

دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا’’منی ترون ساگر جی مہاراج کے انتقال کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا۔ ان کی سیکھ اور آدرش انسانیت کے لئے ہمیشہ تحریک دیتے رہیں گے‘‘۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا انچارج رنديپ سرجےوالا نے کہا’’جین منی ترون ساگر مہاراج کی خبر تکلیف دہ ہے۔ ان کےاصول اور پیغام ہمارے سماج کی رہنمائی کرتے رہیں گے. میں نے ان کے پیروکاروں کیلئے ایشور سے صبر جمیل کیلئے دعاگو ہوں۔

About the author

Taasir Newspaper