جی ایس ٹی: 10 ریاستوں کو 20 فیصد سے زیادہ نقصان، حکومت پریشان

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 29-September-2018

نئی دہلی، (یو این آئی)رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں اپریل سے اگست تک اشیا ء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے تحت دس ریاستوں کو ریونیو کلکشن میں بیس فیصد یا اس سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ جس سے مرکزی حکومت کی فکر مندی بڑھ گئی ہے۔جی ایس ٹی کونسل کی آج ہوئی تیسویں میٹنگ کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ کرتے وقت اندازہ تھا کہ صارف ریاستوں کا ریونیو بڑھے گا اور پیداواری ریاستوں کا نقصان ہوگا۔ رواں مالی سال کے اگست تک کے اعدادو شمار الگ حقائق بتاتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ یہ ریاستوں کے مقامی اسباب کی وجہ سے ہے اور آنے والے دنوں میں صارف ریاستوں میں ریونیو کلکشن بڑھے گا۔جی ایس ٹی کے دوسرے سال میں ایک بھی تہائی ریاستوں کا ریونیو خسارہ بیس فیصد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے حکومت حرکت میں آئی ہے اور خزانہ سکریٹری ہسمکھ ادھیا نے ان میں سے پانچ ریاستوں کا دورہ کرکے اس کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ دیگر ریاستوں میں بھی جانے والے ہیں۔سب سے زیادہ 42 فیصد خسارہ پڈوچیری کا ہوا۔ جی ایس ٹی میں پنجاب اور ہماچل پردیش کا کلکشن 36-36 فیصد ، اتراکھنڈ کا 35 فیصد، جموں و کشمیر کا 28 فیصد، چھتیس گڑھ کر 26 فیصد، گوا کا 25 فیصد، اوڈیشہ کا 24 فیصد او رکرناٹک اور بہار کا 20-20 فیصد کم رہا ہے۔ ان اعدادوشمار میں محصولات کا حصہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ جی ایس ٹی میں مرکزی حکومت نے پانچ سال تک ہر ریاست کو ریونیو نقصان کی بھرپائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ریاستوں میں 2015-16 کے ریونیو کلکشن کو بنیاد مانا گیا ہے اور حکومت نے ہر سال ان کا اسٹینڈرڈ ریونیو طے کرنے کے لئے 14 فیصد سالانہ ریونیو اضافہ کا فارمولہ اپنایا ہے۔ سالانہ 14 فیصد جوڑنے کے بعد اس اعدادو شمار سے جتنا کم کلکشن ہوگا اس کی بھرپائی مرکزی حکومت کرے گی۔مسٹر جیٹلی نے بتایا کہ پہلے اگست 2017سے مارچ 2018 تک ریاستوں کا ریونیو خسارہ16فیصد رہا تھا جو اس سال اگست تک گھٹ کر 13فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعدادو شمار بتارہے ہیں کہ صارفین ریاستوں کا خسارہ زیادہ ہے۔ لیکن حقائق کی تہہ تک جانے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے مقامی اسباب ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کئی ریاستوں میں الگ الگ نام سے خصوصی ٹیکس لگا رکھے تھے جس کی وجہ سے انہیں تناسبی نقصا ن ہورہاہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تہواری موسم آنے والا ہے اس میں صارف عام طورپر بڑھتا ہے ۔اس لئے مالی سال کے اواخر تک ریاستوں کے ریونیو نقصان کی صورت حال میں مزید سدھار کی امید کی جانی چاہئے۔