دنیا میں انتہائی غربت کی شرح کم ہو رہی ہے: رپورٹ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 22-September-2018

واشنگٹن( آئی این ایس انڈیا ) ایک نئے جائزہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور لوگوں کو انتہائی غربت سے نکالنے کی بین الاقوامی کوششیں کامیاب سے ہم کنار ہو رہی ہیں۔ یہ دعویٰ بدھ کو جاری کی جانے والی ‘ورلڈ بینک’ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جو 2015تک کے دستیاب اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 میں دنیا میں انتہائی غریب افراد کی تعداد 73 کروڑ 60 لاکھ تھی جو دنیا کی کل آبادی کا 10 فی صد بنتی ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ جب سے اس نے دنیا بھر کے انتہائی غریب افراد کے متعلق اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے ہیں، اس کے بعد سے کسی بھی سال میں ریکارڈ کی جانے والی یہ سب سے کم تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2013 میں دنیا میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد کل آبادی کا 11 فی صد سے کچھ کمی تھی۔لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں ملنے والی کامیابیوں کی رفتار خاصی سست ہے اور 2030 تک دنیا سے انتہائی غربت کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ عالمی معیار کے مطابق ایک ڈالر 90 سینٹ یومیہ سے کم آمدنی والے افراد کو انتہائی غریب تصور کیا جاتا ہے۔پاکستانی کرنسی میں یہ معاوضہ لگ بھگ 235 روپے یومیہ بنتا ہے۔ ورلڈ بینک گروپ کے صدر جِم یونگ کِم نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 25 برسوں میں دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں نے خود کو انتہائی غربت سے نکالا جس کے بعد دنیا میں انتہائی غربت کی شرح اس وقت معلوم تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ اپنے بیان میں ورلڈ بینک کے صدر نے کہا ہے کہ جہاں اسے اس دور کی سب سے بڑی انسانی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے، وہیں اگر عالمی برادری 2030تک انتہائی غربت کے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے سخت محنت کرنا ہوگی۔ عالمی برادری نے 2030 تک دنیا کے تمام ممالک میں انتہائی غریب افراد کی تعداد ان ملکوں کی کل آبادی کا تین فی صد سے کم کی سطح تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے لگ بھگ نصف ممالک یہ ہدف حاصل کرچکے ہیں لیکن 2030 سے قبل دنیا کے تمام ملکوں کا یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔