رافیل اور ایس -400 میزائل سے فضائیہ کی صلاحیت بڑھے گی: فضائیہ کے سربراہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-September-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) رافیل جنگی طیارے کے سودے پراپوزیشن کی طرف سے جاری ہنگامہ کے درمیان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل بی ایس دھنووا نے آج کہا کہ ہندوستان کوجس طرح کے ‘سنگین خطرے کا سامنا ہے، اسے دیکھتے ہوئے فضائیہ کو رافیل جیسے طیارے اور روسی سکیورٹی سسٹم ایس -400 کی ضرورت ہے۔ ایئر چیف مارشل نے بدھ کے روز یہاں ایک سمینار میں کہا کہ دنیا میں صرف دو ممالک جنوبی کوریا اور اسرائیل ہی اپنے اپنے علاقوں میں ہندوستان جیسے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ان دونوں نے ہی اپنی فضائیہ کو انتہائی مضبوط بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہی تیار تیجس طیارے اس کمی کو پورا نہیں کر سکتے، جس کا سامنا فضائیہ کر رہی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے رافیل جیسے جدید ٹیکنالوجی سے لس طیارے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کو پڑوسی ممالک کی بڑھتی طاقت کو دیکھتے ہوئے مضبوط بنایا جانا چاہئے۔ پاکستان اور چین کی فضائی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ کو 42 اسکویڈرن کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس صرف 31 اسکویڈرن ہیں۔ پاکستان مسلسل اپنی طاقت بڑھا رہا ہے اور اس کے پاس جنگجوؤں کے 20 سے زائدا سکویڈرن ہیں جن کے پاس اعلی درجے کے ایف -16 بھی ہیں اور وہ چین سے بڑی تعداد میں جے -17 طیارے حاصل کر رہا ہے۔ چین کے پاس 1700 سے زیادہ جنگی طیارے ہیں ۔ ایئر چیف مارشل دھنووا نے ایک قدم آگے جاکر کہا کہ اگر ہندوستان کے پاس جنگی طیاروں کے 42 اسکویڈرن بھی ہو جاتے ہیں تو بھی وہ دونوں کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگرچہ فضائیہ اس سے پہلے کئی بار کہہ چکی ہے کہ وہ ایک ساتھ دو محاذوں پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے قابل ہے۔فرانس سے رافیل طیاروں کے صرف دو ا سکویڈرن خریدے جانے پر انہوں نے کہا کہ یہ ایئر فورس کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے اور اس سے پہلے بھی طیاروں کے دو اسکویڈرن خریدے گئے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے روس سے مگ -29 طیاروں کے دو اسکویڈرن اور فرانس سے میراج جنگی طیاروں کے دو ا سکویڈرن خریدے جانے کا ذکر کیا۔واضح رہے کہ مودی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ترقی پسند اتحاد حکومت کی طرف فرانسیسی کمپنی ڈسالٹ ایویئشن سے 126 رافیل طیاروں کی خریداری کے سودے کو منسوخ کر کے براہ راست فرانس حکومت سے تیار حالت میں 36 طیاروں کی خریداری کا سودا کیا ہے۔ کانگریس اس سودے میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سودے میں اپنے ایک صنعتکار دوست کو فائدہ پہنچایا ہے۔