رافیل میں نئے انکشاف کے بعد راہل نے مودی کو نشانہ بنایا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 28-September-2018

نئی دہلی،(یو این آئی) کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے رافیل سودے کے بارے میں میڈیا میں ہونے والے حالیہ انکشافات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی پر جمعرات کو شدید حملہ کیا اور کہا کہ جس افسر نے اس سودے میں گڑبڑی کو لے کر سوال اٹھائے تھے اسے سزا ملی تھی اور ہاں میں ہاں ملانے والے افسر کو شاباشی دی گئی تھی۔ کانگریس صدر نے تکبندی کرتے ہوئے رافیل سے منسلک پورے معاملے پر سوال اٹھائے اور مسٹر مودی اور امبانی کا نام لئے بغیر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دھنناسیٹھوں کے لئے وزیر اعظم نے پورے سودے کو بدلا اور جس افسر نے غلط فیصلے کو روکنے کی کوشش کی اس سزا دی گئی۔ مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ مودی امبانی کا دیکھو کھیل / ایچ اے ایل سے چھین لیا رافیل / دھنناسیٹھوں کی کیسی بھکتی /گھٹا دیاسیناکی شکتی / جس افسر نے چوری سے روکا / ٹھگوں کے سردار نے اس کو ٹھوکا / پٹھوں کو ملی شاباشی سیٹھوں نے اڑتی چڑیا پھانسی / جن جن میں پھیل رہی ہے سنسی / مل کرروکیں گے لٹیروں کی کی کمپنی۔اس کے ساتھ ہی مسٹر گاندھی نے اس سودے میں نئے انکشاف کے ساتھ شائع ایک اخبار کی وہ خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس افسر نے جب رافیل سودے پر وزارت دفاع میں تعینات جوائنٹ سکریٹری نے سوال اٹھائے تو اس کی دلیل کو مسترد کر کے نئے افسرکو اس کا کام سونپا گیا اور اب اسے پروموشن مل چکا ہے۔” دریں اثنا کانگریس کے سینئر ترجمان اور سابق مرکزی وزیر جے پال ریڈی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس میں رافیل سودے پر سوال اٹھانے والے وزارت دفاع کے افسران کے نام کا انکشاف کیا اور کہا کہ حکومت کے سودے پر سوال اٹھانے والے جوائنٹ سکریٹری راجیو ورما کی وجہ سے اس سلسلے میں بننے والے کابینہ نوٹ بھی تیار کرنے میں تاخیر بھی ہوئی تھی۔ مرکزی حکومت کے اس سینئر افسر نے جب سودے کے بارے میں اعتراض کیا تو ان کی بات کو نظر انداز کیا گیا اورر ان سے جونیئر افسر سمیتا ناگراج کو یہ ذمہ سونپا گیا اور اس نے حکومت کی منشا کے مطابق کام کیا۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا کمال دیکھئے کہ جس افسر نے سودے پر سوال اٹھائے اور نامناسب کام پر اپنا اعتراض درج کرایا اس کی بات کو نظر انداز کیا گیا اور اسے لمبی چھٹی پر بھیج دیا گیا لیکن جس نے حکومت کاحاشیہ بردار بن کر کام کیا اسے ترقی دی گئی ہے۔مسٹر ریڈی نے کہا کہ اس دوران رافیل لڑاکا طیارے سودے کو لے کر فرانس کے صدر ایمانوئل میکراں کا بھی بیان آیا ہے۔ اسی سلسلے میں پہلے سابق صدر فرانسواں اولاند کا بیان بھی آیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ انل امبانی کی کمپنی کی تجویز حکومت ہند نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سودے کے سلسلے میں فرانس کے موجودہ اور سابق صدر کے بیانات میں کہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس سے صاف ہے کہ سودے میں بڑا گھپلہ ہوا ہے اور اس کی اصلیت کو چھپایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو ہی حقیقت سب کے سامنے رکھنی چاہئے۔