روہنگیا قتل عام کی جانچ کرنے والے صحافیوں کو سات سال قید

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-September-2018

میانمار ، (اے یو ایس ) میانمار کی ایک عدالت نے خبررساں ادارے روئٹرز کے دو صحافیوں کو ملکی رازوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے روہنگیا کے خلاف تشدد کی جانچ کے دوران ملکی راز کی خلاف ورزی کی ہے۔صحافی وا لون اور کیاو او کو سرکاری دستاویزات کے ساتھ گرفتار کیا گیا جو انھیں کچھ دیر قبل پولیس افسروں نے دی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور یہ کہ پولیس نے انھیں جال میں پھنسایا ہے۔اس معاملے کو ملک میں وسیع پیمانے پر میڈیا کی آزادی کے لیے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ سزا سنائے جانے کے بعد ان میں سے ایک صحافی وا لون نے کہا: ‘مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ میں انصاف، جمہوریت اور آزادی میں یقین رکھتا ہوں ۔’یہ دونوں صحافی گذشتہ سال دسمبر میں گرفتاری کے بعد سے قید میں ہیں۔ یہ دونوں شادی شدہ ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔روئٹرز کے مدیر اعلی سٹیفن ایڈلر نے کہا: ‘آج کا دن میانمار، روئٹرز کے صحافیوں وا لون اور کیاو سیو او اور دنیا بھر میں پریس کی آزادی کے لیے غمناک دن ہے۔ دارا لحکومت یانگون میں جج یی لوئن نے عدالت کو کو بتایا کہ ان دونوں کے خلاف ایسے شواہد ملے ہیں کہ ‘وہ ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے۔’اور اس لیے یہ ملک کے رازداری کے قانون کے تحت مجرم پائے گئے ہیں۔’32 سالہ وا لون اور 28 سالہ کیاو سیو او شمالی رخائن کے گاؤں اندن میں فوج کے ہاتھوں دس افراد کے قتل کے متعلق شواہد اکٹھا کر رہے تھے۔جانچ کے دوران انھیں دو پولیس افسروں نے دستاویزا ت پیش کیں لیکن پھر ان دستاویز ا ت کے ان کی تحویل میں ہونے کے جرم میں انھیں فورا گرفتار کر لیا گیا۔اس کے بعد حکام نے اس گاؤں میں ہونے والے قتل کے معاملے میں اپنی جانچ کرائی اور تسلیم کیا کہ وہاں قتل عام ہوا تھا اور پھر یہ وعدہ کیا کہ اس کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔روئٹرز کے مطابق میانمار میں برطانیہ کے سفیر ڈین چگ نے کہا: ‘ہم اس فیصلے سے بہت مایوس ہوئے ہیں۔’امریکی سفیر سکوٹ میرسیل نے بھی یہی تنقید کی اور کہا کہ عدالت کا فیصلہ ان سبھی کے لیے ‘بہت زیادہ پریشان کن ہے جنھوں نے میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔’میانمار میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور انسانی اقدا ر کے کوارڈینیٹر نٹ اوسٹبی نے کہا کہ ‘صحا فیوں کو ان کے اہل خانہ کے پاس واپس آنے دینا چا ہیے اور انھیں اپنا کام جاری رکھنے دیا جانا چاہیے تھا۔’ہم ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔’اس سے قبل فیصلے میں جج کی علالت کے سبب تاخیر ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ رخا ئن صوبے میں پیدا ہونے والے بحران کے ایک سال بعد آیا ہے جو کہ ایک روہنگیا جنگجو گروپ کی جا نب سے کئی پولیس چوکیوں کو نشانہ بنانیکے بعد شروع ہوا تھا ۔ اس کے بعد فوج نے روہنگیا اقلیت کے خلاف بہیمانہ کا ر ر وائی کی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں میانمار کے اعلی فوجی افسروں کی جانچ ہونی چاہیے اور ان پر نسل کشی کا مقدمہ چلنا چاہیے۔رخائن میں میڈیا پر حکومت کا شدید کنٹرول ہے اس لیے وہاں سے قابل اعتماد خبر کا حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔