رکنیت کے معاملے پر شردیادو کو سپریم کو رٹ کا نوٹس

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 25-September-2018

نئی دہلی، (ایجنسی)؛راجیہ سبھا رکنیت کے لئے نااہل ہونے معاملہ پر شرد یادو کے خلاف جے ڈی یو کے ذریعہ دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کو رٹ نے شرد یادو کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے شرد یادو کو 2ہفتہ میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ جے ڈی یو نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ شردیادو اپنی نئی پارٹی بنانے کے بعد بھی دہلی ہائی کورٹ میں خود کو جے ڈی یو کا رکن بتا رہے ہیں۔ جے ڈی یو کا کہنا ہے کہ شرد یادو خود کو جے ڈی یو کا رکن بتا کر اپنی راجیہ سبھا کی رکنیت کو بچانا چاہتے ہیں۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کو اس حقیقت کو نوٹس میں لے کر معاملہ پر سماعت کرنے کی ہدایت جار ی کی جائے ۔ جے ڈی یو نے دہلی ہائی کورٹ کے 11ستمبرکے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ جے ڈی یو نے ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ شرد یادو نے نئی پارٹی بنا لی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی رکنیت رد ہونے کا فیصلہ درست تھا۔ ایسے میں ان ثبوتوں کی بنیاد پر ہائی کورٹ معاملہ کی سماعت کر ے لیکن ہائی کورٹ نے جے ڈی یو کے اس مطالبہ کو خارج کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ نئے ثبوتوں پر نہیں بلکہ پرانے ثبوتوں کی بنیاد پر سماعت کرے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے پہلے ہی اپنے عبوری فیصلہ میں شردیادو کو سرکاری بنگلہ میں رہنے کی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو جے ڈی یو پارٹی کے چیف وہپ رام چندر پرساد نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ شرد یادو کی طرف سے ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ ان کو رکنیت کے لئے نا اہل قرار دینے کے پہلے انہیں اپنا موقف رکھنے کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔ شرد یادو کی دلیل کا جے ڈی یورہنما رام چندر پرساد نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شرد یادو نے دل بدل قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ شرد یادو اور دوسرے راجیہ سبھا ایم پی علی انور کو 4دسمبر2017کو راجیہ سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دیا گیاتھا۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راشٹریہ جنتا دل سے ناطہ توڑ کر جب بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کی تھی تو شرد یادو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔ اس کے بعد جے ڈی یو نے راجیہ سبھا چیئر مین سے مطالبہ کیا تھا کہ شردیادو اورعلی انور نے خود ہی پارٹی چھوڑ کر اپوزیشن جماعتوں کے پروگراموں میں جان شروع کردیا ہے۔ اس لئے ان کی راجیہ سبھا رکنیت ختم کی جائے۔