رہائش سرٹیفکٹ کے لئے سرکل آفس میں ہنگامہ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-September-2018

بتیا(انیس الوریٰ)یوگاپٹی اورسرکل آفس میں آدھار کارڈ پررہائش سرٹیفکٹ نہیں بنانے سے جمعرات کو لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ایک درجن سے زیادہ طلبا اور عام لوگوں نے سرکل آفس کی لال فیتہ شاہی سے ناراض ہوکر نعرہ بازی کی۔ ایک طالب علم وکاس کمار نے الزام لگایا کہ فوری طور رہائش سرٹیفکٹ بنوانے کے لئے فارم آدھار کارڈ کے ساتھ کاؤنٹر پر دیا تو کلکرنے جمع کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے کہا کہ ریونیوافسر سے لکھاکر لاؤ جب میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے لکھنے سے انکار کردیا۔ ادھر ادھر کی دوڑ لگاکر تھک گیاہوں ، اسی طرح کا الزم پپرا نورنگیا سے آئے نظام انصار ی اورذوالفقار انصاری نے بھی لگایا ۔ انہوں نے بتایا آرٹی آرپی ایس کاؤنٹر پر جو چڑھاوا دیتا ہے اسے کسی طرح کا کاغذ نہیں دینا ہوتا ہے لیکن نہیں دینے پر پریشان ہونا پڑتاہے۔ گاؤں کے کئی لوگوں کا یہ بھی الزم ہے کہ متعلقہ ملازم کبھی بھی گاؤں میں نہیں آتے ہیں۔ سرکل یا ہوٹلوں میں بیٹھ کر وقت گذارتے ہیں لیکن لوگوں کا کام کرنے کے گریزکرتے ہیں،۔ ایسا لگتاہے کہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ ضمیرمیاں بتاتے ہیں کہ مال گذاری رسید کٹانے میں اور زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ حلقے کے سبھی ملازم اپنا اٹارنی رکھے ہوئے ہیں۔ پرائیویٹ آدمی سے خفیہ دستاویز دکھا کر گاؤں میں تنازعہ کو ہوا دیتے ہیں۔ عام آدمی کے ہاتھ میں کسی دوسرے کا دستاویز دینا سنگین جرم ہے پھر بھی نہ سابق ہی سابق سرکل افسر ہی کچھ کرپائے اورنہ ہی موجودہ سی او کچھ کررہے ہیں ۔ ایسے میں سرکل آفس کا حال بہت برا حال ہے۔ دوسری طرف سی او ابھیشیک کمار کا کہناہے کہ آدھار کارڈ کی بنیادپر رہائش سرٹیفکٹ بنوایاجاسکتاہے۔