ریاستیں پرموشن میں ریزرویشن دے سکتی ہیں

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 27-September-2018

نئی دہلی، (یواین آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک اہم فیصلے میں کہا کہ درج فہرست ذات و قبائل (ایس سی / ایس ٹی) کے سرکاری ملازمین کو پروموشن (ترقی)میں ریزرویشن کے معاملے میں 12 سال پرانےناگراج فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس کورین جوزف، جسٹس روہنگٹن ایف نریمن، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس اندو ملہوترا کی آئینی بنچ نے ایم ناگراج بنام حکومت ہند معاملہ میں 2006 کی پانچ رکنی آئینی بنچ کے فیصلے کو سات رکنی بنچ کو سپرد کرنے انکارکردیا۔ اس فیصلے میں درج فہرست ذات و قبائل کےاہلکاروں کو پروموشن دینے کے لئے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ ترقی میں ریزرویشن کے لئے ایس سی / ایس ٹی سے متعلق عددی ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ 2006 میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریاست ایس سی / ایس ٹی کی پسماندگی پر عددی ڈیٹا دینے کے لئے پابند ہیں۔کورٹ نے کہا تھا کہ ان برادریوں کے ملازمین کو ترقی دے میں ریزرویشن دینے سے پہلے ریاستی سرکاریں نوکریوں میں ان کی ناکافی نمائندگی اور انتظامی کارکردگی کے بارے میں حقائق پیش کریں گی۔