ریکھا مودی اور دیگر ملزمان کی رہائش گاہوں پر انکم ٹیکس کے چھاپے

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-September-2018

پٹنہ،  ( اسٹاف رپورٹر ) انکم ٹیکس محکمہ نے آج سرخیوں میں رہنے والے کروڑوں روپے کے سرجن گھوٹالہ معاملے میں مبینہ طور پر ملوث متعدد رضاکارتنظیمیں چلانے و الی سماجی کارکن ریکھا مودی سمیت چار لوگوں کی رہائش گاہوں پر آج چھاپے ماری کی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایاکہ انکم ٹیکس محکمہ کی ٹیم نے پٹنہ کے ایس پی ورما روڈ پر واقع سرسوتی اپارٹمنٹ میں محترمہ ریکھا مودی کے فلیٹ میں چھاپے ماری کی ۔ تلاشی کا کام جاری ہے ۔ انکم ٹیکس کے افسران کے مطابق تلاشی کاکام پورا ہونے کے بعد ہی چھاپے میں ملی املاک اور دستاویز سے متعلق اطلاع دی جاسکتی ہے ۔ ذرائع نے بتایاکہ تحقیقاتی ٹیم محترمہ ریکھا مودی سے پوچھ گچھ بھی کر رہی ہے ۔ انکم ٹیکس کی ایک دیگر ٹیم نے بھاگلپور کے تلکا مانجھی بازار میں واقع بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے لیڈر وپن شرما ،بھیکن پور محلہ میں واقع تاجر کشور گھوش کی رہائش اور کمرشیل کمپلیکس پر بھی چھاپے ماری کی ہے ۔ اسی طرح زمین کے کاروباری اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی ) لیڈر دیپک ورما کی سبور میں واقع رہائش پر چھاپے ماری کی ۔ سرجن گھوٹالے میں محترمہ ریکھا مودی کا نام آیا تھا اور اس کے بعد اپوزیشن نے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی پر الزام لگایا تھا کہ محترمہ ریکھا مودی ان کی بہن ہیں اور ان کے تحفظ میں ہی گھوٹالہ ہوا ہے۔ اس پر مسٹر سشیل مودی نے کہا کہ ریکھا مودی ان کی بہن نہیں ہیں اور ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے گزشتہ سال 4 اگست کو سرجن گھوٹالہ معاملہ اجاگر ہونے کے بعد الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ سال 2008-09 سے 2015 کے دوران بھاگلپور میں 302.70 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا اور اس دوران مسٹر سشیل کمار مودی ریاست کے وزیر خزانہ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وزیر خزانہ رہتے ہوئے مسٹر سشیل مودی نے سرجن ادارے کے ذریعے بھاگلپور میں گھوٹالہ کرایا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 4 اگست 2017 کو بھاگلپور میں 302.70 کروڑ روپے کی سرکاری رقم کے غبن کا معاملہ سامنے آیا تھا اور اس کی جانچ کی ذمہ داری بہار پولیس کی اقتصادی جرائم یونٹ (ای او یو ) کو دی گئی تھی۔ حصول اراضی کے لئے 270 کروڑ، شہر ی ترقیاتی منصوبہ کے لئے 17.70 کروڑ اور نظارت کھاتے میں 15 کروڑ روپے سرکاری رقم جمع کرائی گئی تھی۔ فرضی طریقے سے اس رقم کو نکال کر رضاکار ادارے سرجن کے کھاتے میں جمع کرا دی گئی۔ منورما دیوی اس ادارے کی بانی تھیں، جن کا انتقال ہو گیا ہے اور اب ان کے بیٹے امت کمار اور بہو اسے چلا رہے تھے، جو ابھی تک فرار ہیں۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بہار حکومت نے اس گھوٹالہ معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپ دی۔