کھیل

ساتویں بار ایشیا کپ جیتنے اتریگا ہندستان

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 14-September-2018

نئی دہلی، ( یو این آئی ) ہندوستان کی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بے شک مایوس کن کارکردگی رہی تھی لیکن ٹیم انڈیا ہفتہ سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والے ایشیا کپ میں ساتویں بار ٹائٹل جیتنے کے ارادے سے اترے گی۔ہندستانی ٹیم نے باقاعدہ کپتان وراٹ کوہلی کو ایشیا کپ سے آرام دیا ہے جبکہ اوپنر روہت شرما اس ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کپتانی سنبھالیں گے۔ ہندستانی ٹیم ٹیسٹ میچ میں بے شک انگلینڈ میں اچھی کارکردگی نہیں کر سکی ہو لیکن محدود اوورز میں اس کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ ایشیا کپ میں ہندستان کا دبدبہ رہا ہے اور اب تک چھ بار اس نے یہ خطاب جیتا ہے۔ہندستان نے ایشیا کپ کے لیے پانچ مرتبہ ون ڈے فارمیٹ میں اور ایک بار ٹوئنٹی 20 فارمیٹ میں جیتا ہے۔ سری لنکا نے پانچ بار اور پاکستان نے دو بار ایشیا کپ جیتا ہے۔ پہلی بار ایشیا کپ کا انعقاد 1984 میں شارجہ میں ہوا تھا اور اس بار کا ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات کے دبئی اور ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔ ایشیا کپ کا فائنل 28 ستمبر کو ہوگا۔ٹورنامنٹ سے پہلے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کھیلا گیا تھا جس میں ہانگ کانگ فاتح تھا اور اس نے اہم ٹورنامنٹ میں جگہ بنائی تھی۔ ایشیا کپ میں چھ ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں ہندستان اور اس کا روایتی حریف پاکستان اور کوالیفائنگ ہانگ کانگ ہیں جبکہ گروپ بی میں افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا ہیں۔ ہر گروپ میں سرفہرست دو دو ٹیمیں سپر چار میں پہنچیں گي جس کے بعد دو ٹاپ ٹیموں کے درمیان فائنل ہو گا ۔پچھلا ایشیا کپ 2016 میں ٹوئنٹی 20 فارمیٹ میں کھیلا گیا تھا اور ہندستان نے میزبان بنگلہ دیش کو ڈھاکہ میں کھیلے گئے فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل جیت لیا تھا۔ ہندستان اس بار بھی خطاب کا مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے اور اب یہ ٹورنامنٹ 50 اوور کی شکل میں ہوگا۔ہندوستان کو سرفراز احمد کی کپتانی والی پاکستانی ٹیم سے سخت چیلنج ملے گا ۔ پاکستان نے گزشتہ سال آئی سی سی چمپئنز ٹرافي کے فائنل میں ہندستان کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا اور اس فتح کے بعد سے پاکستان نے مسلسل اچھی کارکردگی کی ہے۔ہندستانی ٹیم اپنی رنز مشین اور کپتان وراٹ کوہلی کی غیر موجودگی میں اترے گی، اس کے باوجود ہندستان کے پاس محدود اوور شکل میں ایسے کھلاڑی ہیں جو خطاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹیم میں سابق کپتان مہندر سنگھ کا ہونا ٹیم کیلئے کسی علاج سے کم نہیں ہے۔ وکٹ کے پیچھے کھڑے دھونی کسی بھی کپتان کے لیے سب سے بڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ گیند بازوں کو صحیح جگہ گیند ڈالنے کی مشورہ سے لے کر صحیح ڈي آرایس فیصلہ لینے تک اور مڈل آرڈر میں بیٹنگ میں ٹیم کو ہینڈل کرنے تک دھونی کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ون ڈے کرکٹ میں 10000 رنز مکمل کر چکے 37 سالہ دھونی کی نظریں خود بھی اس ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر اگلے سال کے عالمی کپ کے لئے اپنی جگہ پکی کرنے پر لگی ہوں گی۔کپتان روہت انگلینڈ میں محدود اوور کے میچ کھیلنے کے بعد وطن لوٹ آئے تھے اور اب ایشیا کپ میں وہ ٹیم کی کپتانی سنبھالیں گے۔

About the author

Taasir Newspaper