سعودی عرب کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 22-September-2018

اسلام آباد / ریاض ( آئی این ایس انڈیا ) پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورے کے دوران وہاں کی قیادت سے ہونے والی ملاقات میں سعودی عرب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں بطور تیسرے شراکت دار شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ فواد چودھری نے کہاکہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی کی تجویز پر پاکستان اور سعودی کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا سعودی وفد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان پہنچے گا۔ جس میں سعودی عرب کے وزیر خزانہ، وزیر توانائی اور تجارتی امور کے وزیر شامل ہوں گے۔ دورے کے دوران ان کے بقول سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک وسیع اقتصادی شراکت داری کی بنیاد رکھی جائے گی۔ واضح رہے کہ چین، پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے تحت پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور یہ منصوبے ‘بیلٹ اور روڈ’ کے عنوان سے جاری چین کے وسیع منصوبے کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم ان منصوبوں میں اب تک سرمایہ کاری صرف چین کی طرف سے کی جارہی ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سعودی عرب کو دعوت دینے میں یقینی طور پر چین کی رضامندی شامل ہوگی۔ ممتاز ماہر معاشیات اور عالی بینک کے سابق نائب صدر شاہد جاوید برکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو شامل کرنے کا بنیادی مقصد اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے مزید سرمایہ کاری کا حصول ہے تاکہ صرف چین پر ہی اکتفا نہ کیا جائے۔ اْنہوں نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ نے جب اس ماہ کے شروع میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تو اْس وقت اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دوسرے ممالک کو بھی سرمایہ کاری کیلئے دعوت دی جائے۔ اس موقع پر طے کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو سی پیک کے تحت قائم کئے جانے والے اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کا موقع دیا جائے۔ شاہد جاوید برکی کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران امارات کو بھی اقتصادی راہداری منصوبے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اگرچہ وہ اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم وہاں صورت حال قدرے پیچیدہ ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات گوادر کی بندرگاہ کو دبئی کی بندرگاہ کے ساتھ مقابلہ بازی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ شاہد جاوید برکی کا کہنا ہے کہ دبئی ایک قدرتی بندرگاہ نہیں جبکہ گوادر نہ صرف ایک قدرتی بندرگاہ ہے بلکہ وہاں بڑے جہاز بھی باآسانی لنگرانداز ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے خلاف امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے بڑے پیمانے پر پراپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے اور کچھ ممالک اس پروپیگنڈے کے زیر اثر مدافعتی پالیسی اپنانے پر بھی مجبور ہو گئے تھے۔ اْنہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملائشیا کے وزیر اعظم مآثر محمد نے اپنے گزشتہ دورہ چین کے دوران چینی سرمایہ کاری کے دو بڑے منصوبے منسوخ کر دئے تھے۔ یوں چین اب اس منصوبے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں کی شمولیت سے اسے توسیع دینے کا خواہشمند ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر معاشیات اور بین الاقوامی مالیاتی ایجنسی (IMF) کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا کہ سعودی عرب کی اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت سے سعودی عرب کو چین کیلئے اپنی تیل کی برآمدات کیلئے گوادر کے ذریعے ایک نسبتاً سستا ترسیلی راستہ میسر آ جائے گا۔