سپریم کورٹ کے فیصلے کو کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اپنے حق میں بتایا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 27-September-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس نے آدھار کارڈ کے تعلق سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اپنی جیت قرار دیا ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی من مانی اور غلط پالیسی کی وجہ سے آدھار کا ڈاٹا نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں جا رہا تھا۔ عدالت کے فیصلے سے اب یہ رک تو جائے گا لیکن عوام کی پرائیویسی جو پرائیویٹ ہاتھوں میں چلی گئی ہے اس کے زیاں کا کیا طریقہ ہوگا اور یہ کام کیسے ہوگا ۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے۔مسٹر سبل نے کہا کہ آدھار کی یجی تفصیلات کو نجی کمپنیوں کو دینا غیر آئینی تھاجس پر کانگریس سراپا احتجاج تھی اور اسے اس بات کی خوشی ہے کہ عدالت نے اس کی اس بات کو مان لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے نام پر لوگوں کا ذاتی ڈاٹا اس طرح حاصل نہیں کیا جانا چاہئے تھااورنہ ہی اُس تک پرائیویٹ اداروں کی رسائی ہونی چاہئے تھی۔ عدالت نے کانگریس کے اس منطق کو درست مانتے ہوئے چھ ماہ کے بعد ڈاٹا تباہ کرنے کو کہا ہے لیکن اس کو تباہ کس طرح کیا جائے گا اس بارے میں کوئی ہدایات نہیں دی گئی ہےانہوں نے کہا کہ منی بل کے بارے میں بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم ہے اور حکومت اب اس کی آڑ میں من مانی حرکتیں نہیں کر سکتی۔ لوک سبھا اسپیکر اگر کسی بل کو منی بل قرار دے کر اسے راجیہ سبھا میں جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو کانگریس اب اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔واضح ر ہے کہ سپریم کورٹ کی آئین بنچ نے آج کی اکثریت کے فیصلے میں کچھ شرائط کے ساتھ آدھار کارڈ کی آئینی موزونیت برقرار رکھی لیکن بینک اکاؤنٹ کھولنے، موبائل سم حاصل کرنے اور بچوں کےاسکولوں میں داخلے کے لئے آدھار کے لازمی ہونے کی شرط ختم کر دی ہے۔دوسری طرف وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے آدھار کارڈ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آدھار کی آئینی حیثیت اور حکومت میں اس کی افادیت ثابت ہوئی ہے۔ ارون جیٹلی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ عدالت ‏ عظمی میں بنیاد کا آدھار قانون کا جائزہ لینے کے بعد آنے والے فیصلے سے اس کی مخالفت کرنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کانگریس کی آدھار کی مخالفت کرنے پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس خیال کا آغاز اس نے ہی کیا تھا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا کیا اور کس طرح استعمال ہوسکتا ہے۔ اس وقت آدھار کو قانونی جواز بھی نہیں ملا تھا۔ مودی حکومت نے اس کا خدو خال دوبارہ بنایا اور اس کے بنیادی اصولوں میں تبدیلی کی جس میں یہ واضح کیا کیا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر جیٹلی نے کہا کہ کانگریس لیڈروں کےسیاسی خدشات کا حکومت کے پاس کوئي حل نہیں ہے۔ کانگریس کے دائیں ہاتھ کو یہ نہیں پتہ رہتا کہ اس کا بایاں ہاتھ کیا کر رہا ہے اور اس کے لیڈر صرف هیڈلائن پڑھ کر ہی پریس کانفرنس میں چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو آدھار کارڈ کے ذریعہ غریبوں کی خدمت کرنے کی طاقت ملی ہے۔ آدھار قانون نافذ کئے جانے کے بعد سے حکومت کو 90 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ محصولات بھی بڑھے ہیں۔ اسی لئے حکومت نے پرانے منصوبوں میں رقم بڑھائي ہے اور نئی فلاحی اسکیموں کی شروعات کی ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قانون و انصاف کے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بھی کہا ہے کہ اس فیصلے کے دور رس نتائج ہوں گے اور یہ غریب ہندوستانیوں کو بااختیار بنانے کا ذریعہ بنے گا۔ ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سے متعلق قانون بنانے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور اسے جلد ہی عملی جامہ پہنایا جائے گا۔