سیاست سیاست

سیاست میں بی جے پی کی کارکردگی کی چوطرفہ مذمت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-September-2018

سہارنپور ( جائزہ احمد رضا) گزشتہ دنوں سرجن یاترا کے مقصد کی بابت دہلی سے سہارنپور تشریف لائے عام آدمی پارٹی کے ایم پی اور قومی جنرل سیکریٹری سنجے سنگھ اور چاندنی چوک دہلی سے ممبر اسمبلی الکا لامبا نے دہلی روڈ پر ایکپریسمیٹ پروگرام کے دوران صاف کہا کہ ملک کے پردھان منتری غلط بیانی کرتے ہوئے ملک کے ایک سو تیس کروڑ عوام کو مسلسل گمراہ کرنے میں لگے ہیں جبکہ یوپی میں یوگی نہی بلکہ بھوگی سرکار کام کر رہی ہے دہلی سے سہارنپور تک بھاجپائی سرکاریں عوام کا استحصال کرنے میں مشغول ہیں عام آدمی پارٹی کے قائد ایم پی سنجے سنگھ نے زور دیکر کہاکہ اس سرکار میں ماب لیچنگ اور عدم رواداری کے شرمناک واقعات نے ملک کا سر شرم سے جھکا دیاہے ایسی شرمناک وارداتوں پر نکیل کسا جانا اشد ضروری ہے اس بیچ عام آدمی پارٹی کی ہردلعزیز قائد ممبر اسمبلی (دہلی) الکا لامبا نے کہا کہ دو فرقوں میں تفریق ڈالنے والی جماعت کسی بھی صورت اس ملک کا بھلا نہی کر سکے گی میڈم الکا لامبا نے بیباک لہجہ میں فرمایاکہ ملک کو ٹوٹنے نہی دیا جائیگا عام آدمی پاٹی عوام کو جوڑ نیکا بڑا کام ملک میں کرنے جارہی ہے ہم نے فرقہ پرستی کو دہلی میں مات دی اور آگے ۲۰۱۹ میں بھی ملک بھر کی اہم سیٹوں پر فرقہ پرستوں کو مات دیکر عوام کی من پسندسرکار بنانیکا راستہ تیار کریں گے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہوش سے کام لیں اور بد امنی پھیلانے والوں سے خد بچیں اور عوام کو بھی بچائیں ۔ گزشتہ روز مظفر نگر کے بڑھانہ گیسٹ ہائوس میں راشٹریہ لوک دل کے سربراہ چودھر ی اجیت سنگھ نے بھی موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے پریس کے سامنے خد تسلیم کیاکہ بھاجپائیوں کو ہمارا آپسی بھائی چارہ کسی بھی شکل میں برداشت نہی ہے ملک کی بھاجپائی قیادت ہمکو آپس میں بانٹ کر ہندو واد کے نعرے پر پھر سے اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے راشٹریہ لوک دل بھاجپائیوں کی یہ چال کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دیں گے عام آدمی پارٹی قائدین کے انداز میں چودھری اجیت سنگھ نے بھی یہیکہاکہ موجودہ سرکاروں میں ملک کے عوام کو بانٹنے کا کام کیا جا رہاہے ہم کسی بھی شکل میں ایسی گھنائونی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیں گے ہمارے ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نریندر مودی اور امت شاہ کے مشیر خاص ہیں اپنے سولہ ماہ پرانے دور اقتدار میں اسمبلی ہائوس اور ہائوس سے باہر اپنی پارٹی ریلیوں میں جو بھی آپنے کہا وہی کر دکھایا یوگی سرکار میں شامل ذمہ داران اکثر غیر مہذب واقعا ت، عدم رواداری کو تقویت دینیوالے اور عوام کے بیچ کھائی پیدا کرنیوالے بیانات پر فخر محسوس ہوتاہے من مانی اور اپنے فیصلوں کو عوام پر تھونپنا آپکی عادت میں شامل ہے یوگی سرکار کے بیشترنمائندے کتنی ہی بار یہ باور کراچکے ہیں کہ وہ ریاست میں راشٹر واد لانا چاہتے ہیں سماجواد اورکانگر یس مکت سماج چاہتے ہیں یعنی کے سماجواد بھی نہی رہیگا اور کا نگر یس بھی نہی رہیگی اگر ممکن ہوا تو ملک میں صرف بھاجپا ئی فکر والاراشٹرا وادرہیگا ان سبھی مسائل کے علاوہ شہروں کا نام بد لنا اور من مرضی کے نام رکھنا بھاجپائیو ں کااہم مقصد ہے۔ قابل غور ہے کہ گزشتہ روز لکھنئو میں آئینی حقوق کے اہم مد عے پر بولتے ہوئے حصہ داری مشن کے قائدین نے کہاکہ جن کٹر وادیوں نے جنگ آزاد ی کے سخت ترین حالات میں انگریزوں کی پیٹھ تھپتھپائی، مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کردینیوالے کا ستکار اور تحفظ کیا اور جس آر ایس ایس نے ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ دوغلہ ثابت کرنیکی بیہو دہ کوششیں کی اور جنہوں نے کبھی جنگ آزادی میں حصہ تک نہیں لیا آج انکے منھ سے راشٹر واد کی بات اچھی نہی لگتی ہے حصہ داری مشن کے قائدین اسمبلی ہائوس اور ہائوس سے باہر لگاتار بھاجپائیو ں کی کتھنی اور کرنی والی حرکات پر پینی نظر ر کھے ہوئے ہیں ملک کے کروڑوں لوگ ہر مورچہ پر بھاجپا ئی سازش کا منھ توڑ جواب دینے کو لام بندھ ہورہے ہیں ، کل (آج ) ملک میں مہنگائی کیخلاف کانگریس کا بند ہوگا وہیں ملک کے دلت ایس سی ایس ٹی معاملہ کو لیکر تیش میں نظر آرہا ہے وہیں اقلیتی فرقہ بھی سخت مراحل سے گزر رہا ہے مگر دیش کے چوکیدار تماشا دیکھ رہے ہیں؟ ملک میں قائم موجودہ بھاجپائی سرکاریں ۲۰۱۹ سے قبل جہاں ملک میں صدی پرا نے حضرت گنج (لکھنئو)کا نام تبدیل کر اٹل باجپائی روڈ رکھنے جارہے ہیں وہیں ملک کی بڑی عدالت کو بھی اپنی عد الت کہتے ہوئے جبریہ طور سے رام مندر کی تعمیر شروع کر نا چاہتے ہیں کا فیصلہ سماجواد کے مقابلہ راشٹر واد لانا چا ہتے ہیں ہمارے چیف منسٹر کے اس جملہ پر اسمبلی کے اپوزیشن ممبران نہ جانے کس خوف سے چپ ہیں اسمبلی میں بار بار واک آئوٹ کرنا کم ہمتی کی بات ہے شاید اپوزیشن کے ممبرا ن اب ستیہ گرہ کی تعریف بھلا بیٹھے ہیں تبھی تو بار بار اسمبلی سے واک آئوٹ کرجاتے ہیں اسمبلی سے باہر آنا دستور کیخلاف عمل ہے اسمبلی ہائوس میں ہی ایسے بیانات پر دھرنا دیا جائے جھوٹ کا مقابلہ طاقت سے کیا جائے یہی راشٹرا واد ہے کمزوروں پر جبر اور عوام پر من مانی تھونپنا ہٹلر شاہی ہے اس عمل کی مذمت بیحد ضروری ہے۔ یاد رکھنے قابل بات یہ بھی ہے کہ ہماری ریاست اتر پردیش میں دوکروڑ سے زائد حصہ داری مشن کارکنان کے بے لوث قائد اے ایچ ملک، شیو این کشواہا، دیوندر سنگھ ، وجے پال، حاجی عبد الصمد اور راج بلی گوتم جیسے باوقار افراد کی زیر سر پرستی ہمیشہ ہی سے آر ایس ایس کی ہندو راشٹرا وادی سازشوں پر چوٹ کرتے آرہے ہیں اور اس فرقہ پرستی کے کھیل میں پھیل رہی عدم رواداری اور ماب لیچنگ کے زبردست مخالف ہیں ان سبھی نے گزشتہ روز بھی ریاستی سطح کے سوشل کارکنان ، دانشور اور باضمیر سیاسی طبقہ کے ممبران کے علاوہ حصہ داری مشن کارکنان نے ریاست کے بے لوث قائد اے ایچ ملک، شیو این کشواہا، دیوندر سنگھ ، وجے پال، حاجی عبد الصمد اور راج بلی گوتم کی زیر قیادت نام نہاد بھاجپائی راشٹر واد کو ووٹ ہتھیانہ کا ایک پلان بتاتے ہوئے کہاکہ مسلم اور دلت اس ملک کے پشتینی باشندے ہیں اور یہیں پید اہوئے اور یہیں اس سرزمین پر مرتے آرہے ہیں پھر کس کو راشٹر واد کی سیکھ دینے کی بات ہورہی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper