شبنم معاملے میں مرکز اور یوپی سرکار کو نوٹس

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-September-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) نکاح حلالہ کی مخالفت کرنے والی مطلقہ شبنم رانی پر تیزاب سےحملے کا معاملہ جمعہ کو سپریم کورٹ پہنچ گیا جس پر عدالت 17 ستمبر کو سماعت کریگی۔عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے مرکز اور اترپردیش حکومت سے ان کا رخ جاننا چاہا ہے۔ عدالت نے اگلی سماعت کے دوران مرکز اور اتر پردیش حکومت کے وکیلوں کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے ساتھ ہی عرضی گذار سے عرضی کی ایک ایک کاپیاں دونوں گروپوں کودینےکی ہدایت دی ہے۔دہلی کے اوکھلا کی رہنے والی شبنم رانی کی شادی اتر پردیش کے بلند شہر کے رہنے والے مزمل سے ہو ئی تھی، شادی کے کچھ دن بعد ہی اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دیا تھا ، مطلقہ کے مطابق طلاق کے کچھ دن بعد اس کے شوہر نے اس پر دیور کے ساتھ حلالہ کرنے کا دباؤ بھی بنایا تھا۔ شبنم پر بلند شہر میں کل تیزاب سے حملہ کر دیا گیا تھا ،جس کے بعد انہیں نازک حالت میں ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے،جہاں ان کا علاج چل رہا ہے، الزام ہے کہ شبنم رانی کےدیور نے اپنے دوستوں کے ساتھ ملک کر ان کے بدن پر تیزاب پھینکاہے۔اس معاملے میں شبنم کے دیور اور دیگر کے خلاف پولیس نے معاملہ درج کر لیا ہے، پولیس کے مطابق ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔