طارق انور این سی پی اور لوک سبھا سے مستعفی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 29-September-2018

کٹیہار،(یواین آئی) کٹیہار سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رکن پارلیمنٹ طارق انور نے آج پارٹی اور لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔ طارق انور نے یہاں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ این سی پی صدر شرد پوار کے رافیل سودا معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دفاع میں دیئے گئے بیان سے مجروح ہوکر انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری کے عہدہ سے استعفی دے چکے مسٹر انور نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی رافیل سودے میں ہو نے والی گڑبڑی میں پوری طرح ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی خود کو پاک صاف ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مسٹر انور نے کہا کہ فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاندے نے اس سلسلے میں جو بیان دیا ہے اس سے رافیل سودے میں ہونے والے گھوٹالے کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں این سی پی صدر شرد پوار کا بیان مسٹر مودی کے دفاع میں ہے، جس سے وہ متفق نہیں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ مسٹر پوار کے رافیل لڑاکا طیارہ سودے پر وزیر اعظم کے دفاع میں کل دیئے گئے بیان کے بعد سے طارق انور نے خود کو کنارا کر لیا تھا۔شرد پوار کے بیان کے بعد سے وہ پارٹی سے جڑے رہنے میں بے چین اور تکلیف محسوس کر رہے تھے۔ اسی کے بعد انہوں نے آج این سی پی کی ابتدائی رکنیت اور لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی سے متعلق خط بھیج دیا ہے۔طارق انور نےدہلی روانہ ہونے سے قبل کہا کہ رافیل سودے کی جانچ جے پی سی سے کرائی جانی چاہئے۔ کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیاں رافیل سودے کی جے پی سی سے جانچ کرانے کی مانگ کر رہے ہیں اور ایسے میں این سی پی صدر شرد پوار کا وزیراعظم نریندر مودی کے بچاؤ میں دیئے گئے بیان سے ایک جھٹکا لگا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مسٹر پوار کا اس سے متعلق دیامسٹر مودی کے حق میں دیا گیا بیان قطعی مناسب نہیں ہے ۔این سی پی کے سابق جنرل سکریٹری نے کہا کہ بوفورس گھوٹالہ کے وقت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) اس کی جانچ کرانے کی مانگ کر رہی تھی ۔جانچ کے بعد موجودہ کانگریس حکومت کو کلین چیٹ ملی تھی ۔ ایسے میں مرکز کی موجودہ بی جے پی حکومت رافیل سودے کی جانچ کرانے سے بھاگ رہی ہے ۔ اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس سودے بازی میں گھوٹالہ ہواہے ۔مسٹر انور نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اس سودے کے توسط سے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے ملک کے ایک بڑے صنعتی گھرانے کی مدد کی ہے ۔ یہ ملک کی حفاظت سے جڑا معاملہ ہے اس لئے اس کی ہرطرح سے جانچ کرائی جانی چاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ وہ این سی پی صدر مسٹر پوار کی عزت کرتے ہیں لیکن رافیل سودے میں وزیراعظم مسٹر مودی کا بچاؤ کرنے سے انہیں تکلیف پہنچی ہے ۔این سی پی کے سابق قومی جنرل سکریٹری نے کانگریس میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر واضح انداز میں جواب دینے سے بچتے ہوئے کہاکہ ابھی وہ دہلی جارہے ہیں اور وہاں اپنے حامیوں سے بات چیت کرنے کے بعد اپنے پارلیمانی حلقہ کٹیہار میں لوگوں سے بات چیت کریں گے ۔ اسکے بعد ہی وہ کوئی فیصلہ لیں گے۔واضح ہو کہ مسٹر انور نے رافیل سودے میں ہوئی مبینہ بے ضابطگی کو لیکر مسٹر پوار کے وزیراعظم مسٹرمودی کے بچاؤ میں دیئے گئے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے آج این سی پی کی ابتدائی رکنیت اور لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔انہوںنے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ مسٹر مودی رافیل سودے میں ہوئی بے ضابطگی میں پوری طرح سے شامل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مسٹر مودی ابھی تک خود کو پاک ۔ صاف ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔سابق وزیر دفاع شرد پوار نے کل کہا تھا کہ کسی کو وزیراعظم نریندر مودی کے اوپر شک نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کی رافیل سودے کی تکنیکی جانکاری ساجھا کرنے کی مانگ ‘ بے تکی ہے اور اس کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔ حالانکہ انہوں نے کہاکہ حکومت کو رافیل لڑاکا طیارے کی قیمت کا خلاصہ کرنا چاہئے ۔