غیر ازدواجی تعلقات کو قانونی جوازفراہم کرناافسوسناک

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 29-September-2018

پورنیہ:موجودہ معاشرہ پہلے سے ہی اخلاقی انارکی اور سماجی انتشار کا شکارہے اب سپریم کورٹ کے ذریعے غیر ازدواجی تعلقات کو جواز فراہم کیے جانے کے بعد ہندوستانی سماج میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین اور ممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے تعمیری و فلاحی کاموں کاجائزہ لینے کے دوران پورنیہ کے امورمیں سپریم کورٹ کے ذریعے آئی پی سی کی دفعہ 497کی منسوخی پرنمائندہ سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ معززعدالت نے یہ دلیل دیتے ہوئے اس قانون کوکالعدم قراردیاہے کہ یہ ڈیڑھ سوسال پراناہے اوراس سے خواتین کے احترام و سماجی انصاف کے خلاف ہے کیوں کہ اس قانون کے مطابق شادی شدہ عورت اگر کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے تواس میں شوہر کی اجازت کی شرط لگائی گئی تھی اورعورت اپنے شوہر کی ملکیت نہیں ہے ، یہ اس کے احترامِ نفس اور رائٹ ٹوپرائیویسی کے خلاف ہے،حالاں کہ اگر گہرائی سے اس فیصلے کاجائزہ لیاجائے تویہ ثابت ہوتاہے کہ مذکورہ قانون کو ختم کرنا عورتوں کے حق میں نہیں بلکہ عورتوں کے لیے نقصان دہ ہے،کیوںکہ اب کورٹ کے فیصلے کے بعد شادی شدہ مرد کوکھلی اجازت ہوگی کہ وہ جس سے چاہے جنسی تعلقات قائم کرے،اس طرح ایک اچھاخاصا گھر تباہ و برباد ہوسکتا ہے اور سماج میں اخلاقی بے راہ روی کا ایک نیاسیلاب آسکتاہے۔مولاناقاسمی نے کہاکہ معززعدلیہ نے اس تعلق سے فیصلہ دیتے ہوئے مغربی معاشرہ اور وہاں کے ملکوں کا حوالہ دیا،حالاں کہ ہندوستان اور مغرب کے درمیان تہذیبی و سماجی اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے،لہذادرست یہ تھاکہ اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے اِس ملک کی تہذیب اور یہاں کے سماجی ڈھانچے کو پیش نظر رکھاجاتا۔مولانانے فیصلے کے اس پہلو پر بھی تنقید کی کہ اگر غیر ازدواجی تعلقات شوہر کوبیوی سے یا بیوی کو شوہر سے کوئی تکلیف ہوگی توان کے لیے طلاق کا راستہ کھلاہواہے اور وہ الگ ہوسکتے ہیں،انہوں نے کہاکہ شادی محض ایک رسم نہیں ہے،بلکہ یہ ایک مضبوط اور تاحیات نبھایاجانے والا رشتہ ہے،اگر عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس قسم کی چھوٹ دی جائے گی توآنے والے دنوں میں نہ معلوم کتنے خاندان اجڑجائیں گے اورسماجی تباہ کاریوں سے ہمارامعاشرہ بچ نہیں سکے گا۔انہوں نے کہاکہ عدالتِ عظمی کایہ فیصلہ مایوس کن ہے اور کئی پہلووں سے ناقص ہے اوراس پر نظرثانی کی شدید ضرورت ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ قانون کے خلاف کیرلاکے جوزف سائن نامی سماجی کارکن نے عدالت میں عرضی داخل کی تھی جس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی چیف جسٹس والی پانچ رکنی بنچ نے ۲۷؍ستمبر کو آئی پی سی کی دفعہ۴۹۷؍کی منسوخی کافیصلہ سنایاہے۔