فیس بک ،گوگل اور ٹیوٹر پر الیکشن کمیشن کی سخت نظر

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-September-2018

نئی دہلی ،(ایجنسی)الیکشن کمیشن نے آئندہ پارلیمانی انتخاب کے دوران سومکمل طورسے سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع ابلاغ پر پابندی لگانے کیلئے فیس بک ،ٹیوٹر اور گوگل سے قرار کیا ہے ۔یہ قرار انتخاب کے اشتہار سے لے کر ووٹنگ تک نافذ العمل ہوگا۔سوشل میڈیا پر بڑھتے ایک نیو کو روکنے کیلئے الیکشن کمیشن نے فیس بک ٹیوٹر اور گوگل سے قرار کیا ہے ۔انتخاب میںفیس بک کے بڑھتے ہوئےرجحان کوروکنے کیلئے اشتیار کے تحت یہ کمپنیوں کےدوران پوسٹ کئے جانے والے سارے سیاسی مشمولات پر نظر رکھے گی اور پھیک نیو ز کو بڑھاوا دینے والے پوسٹ کو اپنے ٹائم لائنس سے بھی ہٹائے گی ۔گذشتہ ماہ ان کمپنیوں کی الیکشن کمیشن کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی تھی ۔میٹنگ میں انتخابی کمیشن نے ان کمپنیوں کوہدایت دی ہے کہ انتخابی اشتہار کے دوران کسی بھی طرح کا کوئی سیاسی اشتہار نہیں کر پائیں ۔اس بات کا ان کمپنیوں کو دھیان دینا ہوگا۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹنگ سے قبل سیاسی اشتہار پر روک لگانے کے بعد بھی پارٹیاں سوشل میڈیا فلیٹ فارم کو پیسے دے کر اس پر پروپیگنڈہ کر نے کی کوشش کر سکتی ہے ۔اس لئے ان ذرائع ابلاغ کو اس دوران اور زیادہ مستعد رہنے کی ضرورت پڑے گی۔سوشل میڈیا کمپنیوں نے الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخاب کے دوران پارٹیوں کو ذریعہ کسی طرح کے متنازعہ اور منفی سیاسی اشہار کو اپنے فلیٹ فارم سے ہٹانے کو لے کر پابند عہد رہے گی ۔گوگل نے کمیشن سے کہا کہ وہ خاص طورپر یہ دھیان رکھے گاکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی ویب سائٹ کے کسی طرح کی غلط خبریں اور بھرکائوں پوسٹ نہ ڈالی جائے ۔الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ زیادہ تر پارٹیاں اشتہار کیلئے انہیں سوشل میڈیا استعمال کر تی ہیں ۔کیونکہ زیادہ تر عوام انہیں فلیٹ فارم کا استعمال کر رہے ہیں ۔