اسلام

محرم الحرام کے احکامات ومسائل وفضائل قرآن وحدیث کی روشنی میں

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-September-2018

محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے اور حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے فرمان الہٰی ہے ”بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے یہاں لوح محفوظ میں بارہ ہے اور یہ اس دن سے ہے جب سے اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے ان میں چار مہینہ حرمت او رادب کے ہیں۔ یہی مضبوط دین ہے لہٰذا تم ان دنوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو (التوبہ:36)

محسن کائنات رحمت عالم رسول اکرم نے فرمایا ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے ہیںاور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے (مسلم شریف) آپ سے کسی نے سوال کیا کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کے اس مہینہ کا روزہ جسے تم محرم کے نام سے یاد کرتے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پورے سال کے بعض ایام کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے او ران ایام میں کچھ مخصو ص احکام مقرر فرمائے ہیں۔ محرم الحرام کا مہینہ بھی ایک ایسا ہی مہینہ ہے جس کو قرآن پاک نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے محرم کی دسویں تاریخ کو عاشورہ کہاجاتاہے یہ دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت وبرکت کا حامل ہے جب تک رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے تو اس وقت عاشورہ کے روزے رکھنا مسلمانوں پر فرض قرار دیا بعد میں فرضیت رمضان کے بعد عاشورہ کی فرضیت ختم ہوگئی لیکن نبی پاک نے عاشورہ کے دن روزہ رکھے سنت او رمستحب قرار دیا اور ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ جو شخص عاشورہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے پچھلے ایک سال کا کفارہ ہوجائے گا۔ رسول اللہ نے ہجرت کے بعد مدینہ پہونچ کر ہی عاشورہ کے دن روزہ رکھنا شروع فرمایا۔ حالانکہ صحیح بخاری وصحیح مسلم ہی میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کی صریح روایت موجود ہے کہ قریش مکہ میں قبل از اسلام بھی یوم عاشورہ کے روزے کا رواج تھا اور خود رسول اللہ بھی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں یہ روزہ رکھاکرتے تھے پھر جب آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو یہاں آکر آپ نے خود بھی یہ روزہ رکھا اور مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ یومِ عاشورہ زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ کے نزدیک بھی بڑا محترم دن تھا اسی دن خانہ¿ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتاتھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ واسمٰعیلؑ کچھ روایات اس دن کے بارے میں ان تک پہونچی ہوںگی اور رسول اللہ کا دستور تھا کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے ان میں آپ ان سے اتفاق اور اشتراک فرماتے تھے۔ اسی بناپر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ پس اپنے اس اصول کی بنا پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے، لیکن دوسروں وک اس کا حکم نہیں دیتے تھے ––– پھر جب آپ مدینہ¿ طیبہ تشریف لائے او ریہاں کے یہود کو بھی آپ نے عاشورہ کا روزة رکھتے دیکھا اور ان سے آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے جس میں حضرت موسیٰؑ او ان کی قوم کو اللہ نے نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیاتھا (اور مسند احمد وغیرہ کی روایت کے مطابق اسی یوم عاشورہ کو حضرت نوحؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر لگی تھی) تو آپ نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا، اور مسلمانوں کو عمومی حکم دیا کہ وہ بھی اس دن روزہ رکھا کریں۔ بعض احادیث میں ہے کہ آپ نے اس کا ایسا تاکیدی حکم دیا جیسا حکم فرائض اور واجبات کے لئے دیاجاتاہے۔ چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ربیع بنت معوذ بن عفرائؓ اور سلمہ بن الاکوع سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ کے آس پاس کی ان بستیوں میں جن میں انصار رہتے تھے یہ اطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی کچھ کھایاپیانہ ہو وہ آج کے دن روزہ رکھیں، او رجنہوں نے کچھ کھاپی لیا ہو وہ بھی دن کے باقی حصے میں کچھ نہ ک ھائیں پئیں، بلکہ روزة داروں کی طرح رہیں–––– ان حدیثوں کی بنا پر بہت سے ائمہ نے یہ سمجھا ہے کہ شروع میں عاشورہ کا روزہ واجب تھا، بعد میں جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی او راس کی حیثیت ایک نفلی روزے کی رہ گئی جس کے بارے میں رسول اللہ کا یہ ارشاد ابھی اوپر گزرچکا ہے کہ ”مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس کی برکت سے پہلے ایک سال کے گناہوں کی صفائی ہوجائے گی“ –––– اور صوم یوم عاشورہ کی فرضیت منسوخ ہوجانے کے بعد بھی رسول اللہ کا معمول یہی رہا کہ آپ رمضان المبارک کے فرض روزوں کے علاوہ سب سے زیادہ اہتمام نفلی روزوں میں اسی کا کرتے تھے۔

عن ابن عباس قال مارایت النبی یتحرّی صیام یوم فضلہ علیٰ غیرہ الا ہٰذا الیوم یوم عاشوراءوہٰذا الشہر یعنی شہر رمضان۔ (رواہ البخاری ومسلم)

(ترجمہ) حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کسی فضیلت والے دن کے روزے کا بہت زیادہ اہتمام اور فکر کرتے ہوں، سوائے اس دن یوم عاشورہ کے اور سوائے اس ماہ مبارک رمضان کے۔
مو¿رخین نے لکھا کہ اس دن(۱) یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین قلم اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیاگیا (۲) عاشورہ کے روز ہی آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی (۳) اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر جودی پہاڑ پر لنگر اندار ہوئی۔ (۴) اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایاگیا (۵) اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا اور آتش نمرود ان پر گلزار ہوئی (۶) اسی دن حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے (۷) اسی دن حضرت یعقوب علیہ السلام سے حضرت یوسف علیہ السلام کی ملاقات ہوئی (۸) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانہ سے رہائی نصیب ہوئی (۹) اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔ (۰۱) اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت ناز ل ہوئی۔ (۱۱) اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت ملی (۲۱) اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی (۳۱) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کو چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے (۴۱) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی (۵۱) اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی (۶۱) اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے آسمان پر اٹھایاگیا (۷۱) اسی دن دنیا میں پہلی باربران رحمت نازل ہوئی (۸۱) اسی دن قریش خانہ کعبہ پر غلاف ڈالتے تھے۔ (۹۱) اسی دن حضور اکرم نے حضرت خدیجہ الکبریٰ سے نکاح کیا۔ (۰۲) اسی دن کو فریب کاروں نے جگر گوشہ فاطمہؓ کو میدان کربلا میں شہید کیا۔ (۱۲) اسی دن قیامت قائم ہوگی (نذہت المجالس، معارف القرآن، پ ۱۱۔۸۹، معارف الحدیث)

احادیث مبارکہ سے یوم عاشورہ میں صرف دوچیزیں ثابت ہے (۱) روزہ جب کہ اوپر مذکور ہوا بعض فقہانے لکھا ہے کہ صرف یوم عاشورہ کا روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے عاشورہ کے روزے کی تین شکلیں بیان کی ہیں۔ (۱) نویں دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھاجائے (۲) نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھاجائے (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھے۔ ان میں پہلی شکل سب سے بہتر ہے تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے اسی کو بعض فقہاءنے کراہت سے تعبیر کیاہے۔ اس مہینہ میں مطلقا کسی بھی دن روزہ رکھنا افضل ہے اور عاشورہ کے دن کی فضیلت زیادہے۔ نبی پاک نے عاشورہ کے دن خود روزہ رکھا اور حضرات صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تو اس پر صحابہؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس دن کی تو یہود ونصاریٰ بھی تعظیم کرتے ہیں تو اس پر آپ نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو اگلے سال ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے تاکہ مشابہت نہ ہو۔ اس سلسلہ میں سب سے عمدہ قول یہ ہے کہ نو محرم اور یوم عاشورہ دونوں کا روزہ رکھے اس لئے نبی علیہما السلام نے دس محرم کا روزہ رکھا اور نو محرم کے روزے رکھنے کا قصد فرمایا حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ نبی نے جو نو محرم کو روزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا اس کے معنی میں احتمال ہے کہ صرف نوپر ہی منحصر نہیں بلکہ دس کا اضافہ کیاجائے گا یا تو اس کی احتیاط کے لئے اور یہود ونصاریٰ کی مشابہت سے بچنے کے لئے او ریہی طریقہ ہے جو مسلم کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے (فتح الباری،۴/۵۴۲)

ماہ محرم ہمارے لئے پیغام لیکر آتاہے قمری سال اسی مہینہ سے شروع ہوتا ہے امت مسلمہ کو اسلامی تاریخ کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے خاص طورپر یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوم مراد رسول سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم اور دس محرم الحرام کو نواسہ رسولؓ کی اپنے قافلے اور خاندان نبوت کے افراد کے ساتھ شہادت جیسے واقعات نہ صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ان اہم واقعات کی وجہ سے امت مسلمہ نے اسلام کی سربلندی کی جدوجہد کے سفر کو مدینہ اور کربلا سے وابستہ کرلیا ہے کہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخ رو ہے اور مسلمانوں کا ایمانی جذبہ اور اس سے جدوجہد کا درس اور زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہے ایک طرف اسلام کی ایک بنیاد عدل اجتماعی ہے او راس کے لئے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمؓ کا اسوہ قابل تقلید ہے تو دوسری طرف اس کے لئے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش ہے۔

آج کے حالات میں جب پورے عالم میں امت مسلمہ دباﺅ اور دشمن طاقتوں کے گھیرے میں ہے ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ داخلی طور پر رواداری برادران وطن کے ساتھ حسن معاشرت اخلاق حمیدہ کے ساتھ معاملات کئے جائیں اسلامی احکامات پر مضبوطی کے ساتھ عمل کیا جائے امت میں انتسار کی ہرکوشش کوناکام بنایاجائے یہی وقت کی ضرورت اور محرم الحرام کا پیغام ہے اور امت کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر ہے۔ عالمی سامراج فرقہ واریت میں الجھاکر ہمیں حقیقی اسلام سے دور رکھنے کی ناکام کوشش کرتارہتا ہے جسے علماءحق اور اسلامی حمیت رکھنے والے امت مسلمہ کے چانثار افراد منھ توڑ جواب دیتے ہیں۔

غم اور خوشی کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب سے تعلق استوار او رمضبوط کیاجائے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر اس کا شکر اور مصائب وآلام پر صبر کیاجائے ہر دو موقع پر نماز ذکر واذکار صدقہ خیرات اور دیگر نیک کام کئے جائیں جو شریع تاسلامیہ نے واضح فرمائے ہیں غیر مسنون اعمال اور بدعات سے اجتناب کیاجائے اللہ تعالی ہم سب کو کتاب وسنت کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق دے اور حقیقی طور پر دین پر عمل پیرا ہونے کی سعادت نصیب فرمائیں آمین۔ ائمہ کرام واعظ ومبلغ حضرات ذمہ داران مدارس اصلاح معاشرہ کی منتظمین او رکمیٹیاں سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں یوم عاشورہ کے متعلق عوام کو روشناس کرائیں۔ سڑکوں، گلی محلوں بازاروں میں ہڑدنگ سے نوجوان کو دور رکھیں تاکہ کوئی حادثہ یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

آپ نے یوم عاشورہ کو اہل وعیال پر خرچ میں وسعت کرنے کی ترغیب فرمائی من وسع علی عیالہ لم یزل فی سعة سائر سنة (المعجم الکبیر)

جس نے دس محرم الحرام کو اپنے گھر والوں کے خرچ میں کشادگی کی تو سارا سال اس کے رزق میں کشادگی رہے گی مشکوٰة شریف میں صدقات کے باب میں موجود ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال کے کھانے پینے میں وسعت سے خرچ کرے گا اللہ کریم سال بھر تک اس کے رزق میں وسعت اور خیر وبرکت عطا فرمائے گا۔

تجربہ: حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا مشکوٰة (۰۷۱) حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ اپنی کتاب غنیة الطالبین میں فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوریؒ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس برس تک اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا سیدنا ابن عینیہؓ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس ساٹھ سال اس کا تجربہ کیا تو وسعت ہی پائی لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ دس محرم الحرام کو اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت کرنا برکت رزق کا ذریعہ اور فقروفاقہ سے نجات کا سبب ہے۔ امام ابن عبد البر مالکیؒ نے الاستذکار میں حضرت جابرؓ سے نقل کیاہے کہ رسول پاک نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ پر اور اپنے گھر والوں پر عاشورہ کے دن (کھانے پینے میں) وسعت کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال وسعت فرمائیں گے۔

جلیل القدر صحابی حضرت جابر، مشہور محدث یحییٰ بن سعید اور معروف فقیہ سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اس کو درست اور اسی طرح پایا۔

تحمل وبردباری:

محرم الحرام کا شمار ان مہینوں میں ہوتا ہے جن کے عظمت وتقدس قرآن وحدیث اور معتبر تاریخ سے ثابت ہے۔ یہ عبادت، مالی وسعت، فراخ دلی اور تحمل برداشت کا مہینہ ہے۔ اس لئے محرم الحرام کے تقاضوں کو اسلامی سال کا خیر مقدم کرنا ہے اور یہ عزم کرنا ہے کہ فرقہ واریت، دہشت گردی، تخریب کاری اور عدم برداشت کی حوصلہ شکنی کرکے اتحاد واتفاق، امن وامان اور تحمل کو فروغ دیںگے۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar