مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے سماجی بیداری ضروری: ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 07-September-2018

دربھنگہ(پی آر )المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے دربھنگہ ٹائمز کے اسٹوڈیودمری منزل ، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلکس ، سبھاش چوک دربھنگہ میں گزشتہ شام یومِ اساتذہ کی مناسب سے ایک مخصوص نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس کی صدارت عالمی شہرت یافتہ شاعر پروفیسر عبدالمنان طرزی نے کی۔بحیثیت مہمان بنارس ہندو یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر آفتاب احمد آفاقی اورمشرف عالم شامل ہوئے۔ پروگرام کی نظامت معروف ناقد ڈاکٹر جمال اویسی نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ٹرسٹ کے سکریٹری منصور خوشتر نے ٹرسٹ کا تعارف پیش کرتے ہوئے مہمانوں کا استقبال کیا۔اس موقع پر ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے علم ایک طاقت کے عنوان سے پرمغز گفتگو کی۔ جناب آفاقی نے سقراط اور علامہ اقبال کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علم کا اصل مطلب خود شناسی ہے۔ علم ہی وہ عظیم دولت ہے جس کی بدولت انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا گیا ہے۔ جناب آفاقی نے کہا کہ اصل علم وہ ہے جو عمل کے ساتھ مربوط ہو، جس سے قوم و معاشرہ کی تعمیر و تشکیل ہوتی ہو۔ انہوں نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’علم نافع‘ کی دعا سکھائی۔ یعنی کامیاب علم وہی ہے جس سے ہم خود کو اور سماج کو کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ علم کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزۂ بدر کے و موقع پر کفار ومشرکین کو اس شرط پر آزاد کرنے کی بات رکھی کہ وہ صحابہ کرام کو ’علم‘ سکھائیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ رسول کریمؐ نے صحابہ کرام کو کفار سے علم حاصل کرنے کو کہا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دینی اور دنیاوی علم میں مذہب نے کوئی تفریق نہیں کی بلکہ یہ تفریق ہماری پیدا کردہ ہے۔ آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ آج دنیا میں مسلمانوں کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے دین اور دنیا کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ انہوں نے علم کی ترویج و اشاعت میں استاد کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم تاریخ کے عظیم اساتذہ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ استاد ہونے کے ساتھ ساتھ بوقتِ ضرورت باپ، سرپرست، مربی و محسن کا کردار ادا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ قدریں ہمارے سماج سے ختم ہوتی جا ر ہی ہے۔ مادیت نے تعلیم کے شعبوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔نئی نسل ہم سے سوال کر رہی ہے کہ آپ نے اپنے بزرگوں کی نشانیاں کہاں چھپا رکھی ہیں۔ڈاکٹر آفاقی نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ ہے کہ مسلمان تعلیمی اعتبار سے دوسری اقوام سے زیادہ پسماندہ ہیں لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بڑے گڑھے کو دیکھ کر آپ ہمت ہار گئے تو اُسے کبھی نہیں بھر سکتے۔ آپ اپنے حصے کی ایک مٹھی ہی سہی مٹی ڈال دیجیے، بہت ممکن ہے کہ آپ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی آپ کی طرف متوجہ ہوں اور آپ کی معاونت کرنے لگیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور تعمیر قوم و انسانیت کے لیے خود کو وقف کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ذاتی مفاد کو ترک کر کے قومی مواد کو ترجیح دینے کی کوشش کریں گے۔ ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ بڑے کام انجام دینے کے لیے ضروری نہیں کہ کام کرنے والوں کی بڑی تعداد بھی ہو بلکہ کم لوگ بھی اگر جذبے اور خلوص نیت کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں تو حالات یقینا بدلیں گے۔ انہوں نے یہودی قوم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوم تعداد کے اعتبار سے بہت کم ہونے کے باوجود عالمی سیاست و معیشت پر حاوی ہے۔ ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی ایک وجہ غربت بتائی جاتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ مسلمان تعلیم پر توجہ نہیں دیتے۔وہ دوسرے غیر ضروری امور پر جی جان لگا دیتا ہے لیکن اپنے بچوں کی تعلیم میں دلچسپی نہیں دکھاتا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر گھر جا کر لوگوں کی کائونسلنگ کی جائے کہ جس طرح بچیوں کی شادی کے لیے، مکان بنانے کے لیے اور دوسرے کاموں کے لیے پیسے بچائے جاتے ہیں، پیسوںکا انتظام کیا جاتا ہے، اسی طرح بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی تعلیمی بجٹ بنایا جائے۔ ڈاکٹر آفتاب اشرف نے کہا کہ نئی نسل کے لوگوں کو علم کی اہمیت سمجھنے کے لئے خود کو ماضی سے جوڑنا ہوگا۔ اپنے بزرگوں کے کارناموں پر غور و خوض کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر جمال اویسی نے علم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اساتذہ کو اپنے فرائض انجام دینے کی بات کہی ۔ جناب انور آفاقی نے کہا کہ تعلیم انسان کو بڑا بناتی ہے۔ اس کا حصول ہر انسان کے لئے لازمی ہے۔ ڈاکٹر منظر سلیمان نے علم کے ساتھ بچوں کی تربیت پر زور دیا۔ سید محمود احمد کریمی نے بھی تعلیم کی معنویت پر روشنی ڈالی ۔ جنید عالم آروی نے اپنے اشعارمیں اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ صدر مجلس پروفیسر طرزی نے علامہ اقبال کے اشعار کے حوالے دیئے اور علم کی اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی۔ منصور خوشتر کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر ڈاکٹر احسان عالم، حامد انصاری ، وسیم اختر، رفیع نشتر، محمد شمشاد ، عامر علی، مسرور فیضی، محمد تفسیر اعظم گوہر شامل تھے۔