مظفر نگر میں ایک ہند جے ہند پروگرام کا کامیاب انعقاد

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-September-2018

نئی دہلی (پریس ریلیز)مظفر نگر کے ڈوڈا گرام میں آج مسلم راشٹریہ منچ کے کارکنو ں کے ذریعہ ایک پروگرام ’’ایک ہند جے ہند ‘‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا جس میں جس میں مہما ن ذی وقار کی حیثیت سے مشہور سینئر سماجی کارکن شانت کمار جاٹو جی نے شرکت کیا اور مہمان خصوصی کے طور پر دہلی سے مسلم راشٹریہ منچ کے قومی تنظیمی کنوینر گر یش جویا ل نے شرکت کیا اور اپنے خیالا ت کا وہاں پر موجود تمام ہزاروں کے لگ بھگ تعد اد میں عوام اور موقر باشندوں سے اظہار کیا۔ پر وگرام میں شرکت کنندگان دیگر افراد مولانا محمد افسر، شکیل احمد، شمعون پردھان جی ، مولانا حبیب الر حمن قاسمی، حاجی ظہیر احمد، کنور واسط علی، قدیم عالم، تشار کانت، فجر الدین، انوج، حاجی بشیر الد ین، جگبیر مکھیا جی، قاری جاوید احمد، نور محمد ٹکم پر دھان جی، نفیس پردھان جی، نواب عرف کالے، رامبیر پردھان جی، ودگیر معزز شرکت کنندگان تھے جنہو ں نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں ہر ممکن مدد فرا ہم کرائی۔ مظفر نگر کے ڈوڈہ گرام میں منعقد اس پرو گرام کی اپنی الگ ایک خصوصی تھی ، علاقے میں چسپاں بینر و پوسٹر پر کچھ انو کھے اور اچھے الفاظ جملو ں کے طور پر مرتب کئے گئے تھے، جو خصوصی طور پر عوام کیلئے جاذب نظر بنایا گیا تھا۔ جو کچھ اس طر ح تھا کہ ہم سب کا مالک ایک ہے، ہم سب کے بابا ایک ہیں، ہم سب کی ماٹی ایک ہے، ہم سب ایک ہیں ۔ پروگر ام میں خطاب کر نے والوں کو سن کر حا ضرین نے اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا اور مہما ن خصوصی گریش جویال سے فردا فردا مل کر لوگوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور گنگا جمنی تہذیب کے اس پیغام کو ملک کے جن جن تک پہنچانے کا سنکلپ بھی لیا گیا۔ گریش جویال نے حا ضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت ماتا کے سپوت ایک ماں باپ اور سرزمین پر جنم لینے والے ساتھ ہی ساتھ اسی سرزمین وطن کی مٹی میں دفن ہوجانے والے لوگ ہیں، لہذا کسی بھی طرح سے کوئی تفریق ہماری جسمانی ساخت میں بھی نہیں ہے اور نہ ہی زندگی بسر کرنے کے لحاظ سے کسی الگ زاویے کے شکار ہیں، ہم اپنی مرضی سے کسی خاص مذہب کے گھر میں پیدا نہیں ہو ئے بلکہ خدا اور قدرت نے ہمیں اپنی خوشی سے ماں کے گود میں اتارا اور وہیں سے ہماری پرور ش اور ر ہن سہن و گزرانے زندگی کا طور طریقہ شروع ہوا۔ تو جب ہم اپنے مذہب کو خود اختیار کر نے کے قا بل نہیں او ر ہمیں اللہ نے ہمارا مذہب اختیار کرایا ہے تو لڑنے جھگڑنے کا کوئی بندو بست ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ لہذا ہمارا ایک دوسرے کیلئے طعنہ وطشنہ دیا جانا شیطانی فریب کے سوا کچھ نہیں ہے، ہمیں ایک ہند جے ہند ایک اللہ ایک مالک اور ایک خالق کے طریقے پر چلتے ہو ئے زندگی بسر کرنے اور خود ترقی کرتے ہو ئے اپنے ملک کو آگے بڑھانے کی طر ف سوچ اور غور وفکر کرنا ہوگا۔ اسی ہماری بھی بھلائی اورہمارے ملک کے ماحول کیلئے یہی سازگار ہے۔