ہندستان ہندوستان

مظفر پور معاملے میں میڈیا ٹرائل کی اجازت نہیں

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-September-2018

نئی دہلی،(تاثیر بیورو): سپریم کورٹ نے مظفر پور شیلٹر ہوم معاملےکی جانچ کی رپورٹنگ سے میڈیا کو روکے جانے کے سلسلے میں پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی کی سماعت کے دوران منگل کے روز میڈیا کو ایک لکشمن ریکھا کھینچنے اور اپنی رپورٹنگ میں توازن قائم کرنے کا مشورہ دیا اور اپنی طرف سے یہ صاف کردیا کہ ایسے حساس معاملوں کےمیڈیا ٹرائل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ساتھ ہی حکومت بہار اور معاملے کی تحقیقات کررہی سی بی آئی کو نوٹس جاری کرکے جوابی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ اور معاملے کی اگلی سماعت کیلئے 18 ستمبر کی تاریخ طے کردی۔ جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نےاس معاملے کی سرسری سماعت کے دوران کہا کہ میڈیا کئی بار ایک دم انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ اس میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آپ جیسا چاہیںگے، کہیںگے، آپ میڈیا ٹرائل نہیں کرسکتے ،ہمیں بتائیں کہ کہاں لکیر کھینچی جائے۔ عرضی گزار محترمہ فوزیہ کی دلیل تھی کہ اس معاملے کی میڈیا رپورٹنگ پر روک لگانے سے متعلق پٹنہ ہائی کورٹ کا 29 اگست کا حکم غلط ہے۔ یہ حکم معاملے کی میڈیا رپورٹنگ پر مکمل پابندی لگانے کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے اس حکم سے آئین کے تحت شہریوں کو فراہم کردہ اطلاعات پانے کا بنیادی حق ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے اسے صحافت کی آزادی پر حملہ بھی قرار دیا۔ عدالت کو آج سماعت کے دوران بتایا گیا کہ پٹنہ ہائی کورٹ نے ایک خاتون وکیل کو اس معاملے میں رفیق عدالت مقرر کیا ہے، جو متاثرہ لڑکیوں سے ملے گی اور ان کا انٹرویو کرے گی۔ اس دلیل کو سننے کے بعد عدالت عظمی نے رفیق عدالت کی تقرری پر بھی روک لگا دی۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar