ہندستان ہندوستان

ممبئی ہائی کورٹ تحقیقاتی ایجنسی پر برہم ، چیف انویسٹی گیٹنگ افسر کو طلب کیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-September-2018

ممبئی (پریس ریلیز)دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت عرضداشت پر ممبئی ہائی کورٹ میں گذشتہ کل سماعت عمل میںآئی جس کے دوران دورکنی بینچ نے قومی تفتیشی ایجنسی NIA کی نمائندگی کرنے والے وکیل کو کہا کہ وہ معاملے کی روز بہ روز (ڈے ٹو ڈے ) سماعت کرنے کے تعلق سے کیا اقدامات کررہے ہیں اور اگر وہ مقدمہ کی سماعت روز بہ روز کیئے جانے کے لیئے تیار نہیں ہیں تو ہائی کورٹ ملزم کی ضمانت عرضداشت پر اپنا فیصلہ اس حساب سے صادر کریگی۔دو رکنی بینچ تحقیقاتی ایجنسی پر سخت برہم نظر آئی خصوصاً جسٹس مردلہ بھاٹکر نے سرکاری وکیل سکھوندر کو کہا کہ وہ معاملے کی اگلی سماعت پر اس مقدمہ کی تحقیقات کرنے والے چیف انویسٹی گیٹنگ افسر کو عدالت میں پیش کرے تاکہ عدالت اس سے یہ دریافت کرسکے کہ آیا استغاثہ اس مقدمہ کی روز بہ روز سماعت کیئے جانے کے تعلق سے سنجیدہ ہے کہ نہیں اور وہ اس تعلق سے کیا اقدامات کررہا ہے۔ ملزم عرفان محمد غوث کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت پر جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس مردالا بھاٹکر کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ایک سال قبل ملزم کو ضمانت اس شرط پر نہیں دینے کا حکم دیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلے گی لیکن اب جبکہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گذرچکا ہے این آئی اے عدالت مقدمہ فیصل کرنے میںناکام ثابت ہوئی اور مستقبل قریب میں مقدمہ فیصل ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ دیڑھ سو گواہوں میں سے صرف ۱ٹھارہ گواہوں نے ہی ابتک عدالت میں گواہی دی ہے۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم نہیں ہے اور نہ ہی دفاعی وکلاء کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوسکی ۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو جیل میں چھ سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور جس طرح سے این آئی اے عدالت کا م کررہی ہے اس مقدمہ کو مکمل ہونے میں ایک طویل وقفہ درکا ر ہوگا لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔اس درمیان سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے عدالت کے جج کے ٹرانسفر ہوجانے کی وجہ سے معاملے کی سماعت التوا ء کا شکار ہوئی تھی نیز اب جبکہ حکومت نے سیشن عدالت میں خصوصی این آئی اے عدالت کے جج کا تقرر کردیا ہے مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کیئے جانے کے تعلق سے اقدامات کیئے جارہے ہیں۔عدالت نے سرکاری وکیل کو بتایا کہ انہیں سیشن عدالت کے جج کا جواب موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے مقدمہ کی روز بہ روز سماعت کیئے جانے کے تعلق سے مثبت جواب دیا ، اب یہ استغا ثہ کی ذمہ داری ہیکہ وہ معاملے کی روز بہ روز سماعت کیلئے اقدامات کرے جس میں گواہوں کو عدالت میں پیش کرنا اہم ہے۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ۲۵؍ ستمبر تک ملتوی کردی ۔دور ان سماعت ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ مبین سولکر کی معاو نت کیلئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ایڈوکیٹ ساجد قریشی و دیگر موجود تھے۔واضح رہے چھ سا ل قبل مہارا شٹر انسداد دہشت گرد دستہ نے مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع سے پانچ مسلم نوجوان محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی دفعات ۱۰،۱۳،۱۵، اور ۱۶ اور مہلک ہتھیار رکھنے والے قانون کی دفعات ۳،۲۵ کے تحت گرفتار کیا تھا ۔

About the author

Taasir Newspaper