ممبئی ہائی کورٹ نے خصوصی این آئی اے عدالت سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-September-2018

ممبئی(پریس ریلیز)دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار ناندیڑ کے ایک مسلم نوجوان کی ضمانت عرضداشت پر ممبئی ہائی کورٹ میں سماعت عمل میںآئی جس کے دوران دورکنی بینچ نے خصوصی این آئی عدالت سے مقدمہ کی سماعت کے تعلق سے تفصیلات طلب کی ہیں کیونکہ ایک سال قبل ملزم کی ضمانت عر ضدا شت کو ممبئی ہائیکورٹ نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ کے اندر مقدمہ کی سماعت مکمل کرے لیکن ایک سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ابھی تک صرف ۱۸؍ گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوسکی ہیں۔ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس مردالا بھاٹکر کے روبرو ملز م عرفان محمد غوث کی ضمانت پر بحث عمل میں آئی جس کے دوران ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ایک سال قبل ملزم کو ضمانت اس شرط پر نہیں دینے کا حکم دیا تھا کہ خصوصی این آئی اے عدالت آٹھ ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلے گی لیکن اب جبکہ ایک سال سے زا ئد کا عرصہ گذرچکا ہے این آئی اے عدالت مقدمہ فیصل کرنے میںناکام ثابت ہوئی اور مستقبل قر یب میں مقدمہ فیصل ہونے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ دیڑھ سو گواہوں میں سے صرف ۱ٹھارہ گواہوں نے ہی ابتک عدالت میں گواہی دی ہے۔ ایڈو کیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے میں ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم نہیں ہے اور نہ ہی دفاعی وکلاء کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت مکمل نہیں ہوسکی ۔ایڈوکیٹ مبین سولکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو جیل میں چھ سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور جس طرح سے این آئی اے عدالت کا م کررہی ہے اس مقدمہ کو مکمل ہونے میں ایک طویل وقفہ درکا ر ہوگا لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔اس در میا ن سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے عدالت کے جج کے ٹرانسفر ہوجانے کی وجہ سے معاملے کی سماعت التوا ء کا شکار ہوئی تھی نیز اب جبکہ حکومت نے سیشن عدالت میں خصوصی این آئی ا ے عدالت کے جج کا تقرر کردیا ہے مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کیئے جانے کے تعلق سے اقدامات کیئے جارہے ہیں ۔فر یقین کے دلائل کی سماعت کے بعد دو رکنی بینچ نے خصوصی این آئی ا ے عدالت سے مقدمہ کی اسٹیٹس رپورٹ طلب کرتے ہو ئے معا ملے کی سماعت ایک ہفتہ کیلئے ملتوی کردی۔دوران سماعت ہائی کور ٹ میں ایڈوکیٹ مبین سولکر کی معاونت کیلئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم اور ایڈوکیٹ ساجد قریشی و دیگر موجود تھے۔واضح رہے چھ سا ل قبل مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ نے مہاراشٹر کے ناندیڑ ضلع سے پانچ مسلم نوجوان محمد مزمل عبدالغنی، محمد صادق محمد فاروق، محمد الیاس محمد اکبر، محمد عرفان محمد غوث اور محمد اکرم محمد اکبر کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی دفعات ۱۰،۱۳،۱۵، اور ۱۶ اور مہلک ہتھیار رکھنے والے قانون کی دفعات ۳،۲۵ کے تحت گرفتار کیا تھا ۔