مہسول قبرستان میں مٹی بھرائی اور نالی کا پانی دوسری طرف کرنے کی مانگ

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-September-2018

سیتامڑھی (نمائندہ)سیتامڑھی شہر سے متصل مہسول قصبہ جسکی آبادی تقریباً پچاس ہزار سے زائد ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی 95 فیصد ہے یہ قصبہ تین پنچا یتوں پر مشتمل ہے پچاس ہزار کی آبادی میں ایک ہی قبرستان ہے جس میں جانے کے لئے لوگوں کو گندے نالیوں کے پانیوں سے ہوکر گذرنا پرتا ہے یہ پانی گھڑوں کے نالیوں کا ہوتا ہے جو ایک سرکاری پوکھر میں گرتا ہے جہاں سے یہ قبرستان کے ارد گرد جمع ہوجاتا ہے اور برسات میں یہ پانی اوورفول ہوکر قبروں کے اوپر جمع ہوجاتا ہے چھ سات سال قبل اسی قبرستان میں پانی زیادہ جمع ہوجا نے کی وجہ سے قبر سے ایک لاش بہ کر کسی کے گھر کے دروازے تک چلی گئ تھی جس کے بعد مقامی لوگوں نے انتظامیہ کےخلاف آزاد چوک پر زبردست دھرنا ومظاہرہ کرکے اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا تھا اورجلد سےجلد قبرستان میں مٹی بھرائ کرانے اور پوکھر سے نکلنے والے گندے پانیوں کا رخ دوسری جانب موڑنے کی آواز اٹھائ تھی جس سے کے پھر آئندہ اس طرح کے حالات دوبارہ پیدا نہ ہو، قبرستان میں مٹی بھروانے اور پانی کی نکاسی دوسری جانب کرانے کی مانگ مہسول کے لوگوں کی ضلع انتظامیہ اورعوامی نمائندوں سے آج کی نہیں بلکہ کافی پرانی ہے ,مقامی لوگوں نے سیتامڑھی اسمبلی وپارلیمانی حلقہ کے نمائندوں خصوصاً سیتامڑھی شہری اسمبلی حلقہ کی دوبار نمائندگی کرچکے سابق وزیر مرحوم شاہد علی خان جو اسی قبرستان میں اپنے والد بدیع الزماں خاں عرف بچہ بابو سابق ایم ایل اے کے پہلو میں مدفن ہیں سے لیکر سابق ایم پی نول کشور رائے، سیتارام یادو، ارجن رائے موجودہ ایم پی رام کمار شرما، سابق ایم ایل اے سنیل کمار پنٹو، موجودہ ایم ایل اے سنیل کمار کسواہا، ایم ایل سی دیویش چند ٹھاکر سمیت سبھی عوامی نمائندوں سے اس جانب خصوصی توجہ دینے کی درخواست کی تھی حتی کے ان سبھی عوامی نمائندوں کو مقامی لوگوں کے ذریعہ استقبالیہ دیا گیا تھا اس میں ان سبھی نے یہ یقین دہانی کرائ تھی کہ انکے فنڈ سے حلقہ میں سب سے پہلا کام مہسول قبرستان کی مٹی بھرائ اور اس میں گررہے گندے پانیوں کو روکنے کیلئے مناسب متبادل راستہ کیلئے ہوگا مگر اب تک کسی بھی عوامی نمائندوں نے لاکھ توجہ دلانے کے باوجود اس جانب کوئ پہل نہیں کی جسکی وجہ کر قبرستان میں پہلے سے کہیں زیادہ اب پانی جمع ہے جوکہ بہت ہی تشویشناک ہے آج اس قبرستان کی حالت ایسی بن گئ ہے کہ بیان کے لئے الفاظ نہیں مل رہے ہیں ایک تو اس قبرستان کو جوڑنے والی سڑک پر بے انتہا کیچڑ اور گندا پانی جمع ہے وہیں برسات کا پانی قبرستان میں چاروں طرف پھیل کر قبروں کا نشان تک مٹادیا ہے جمع پانی کی نکاسی کا کوئ حل اب تک نہیں ڈھونڈا جا سکا ہے جس سے مقامی لوگوں میں ضلع انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کے تئیں بے حد غم وغصہ پایا جارہا ہے اور کوئ بعید نہیں کے لوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پر اترآ ئے۔