مہنگائی کے خلاف اپوزیشن کا بھارت بند پراثر

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-September-2018

نئی دہلی، (تاثیر بیورو) پٹرولیم اور صارفین کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف کانگریس صدر راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کے بھارت بند کا بہار سمیت پورے ملک میں زبردست اثر دکھائی دیا۔کانگریس نے پٹرولیم اور عام صارفین کی اشیا کی آسمان چھوتی قیمتوں اور امریکی ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی ریکارڈ کمی کے خلاف بھارت بندکا اعلان کیاتھا۔ بند کو 21 سیاسی پارٹیوں نے اپنی حمایت دی تھی۔راہل گاندھی نے دہلی میں راج گھاٹ سے رام لیلا میدان تک اپوزیشن پارٹیوں کی ریلی کی قیادت کی اور وہاں احتجاجی ریلی سے خطاب کیا اوردھرنا دیا۔دھرنے میں ترقی پسند اتحاد(یوپی اے)کی سربراہ سونیا گاندھی ،سابق وزیراعظم من موہن سنگھ،کانگریس کےسینئر لیڈر غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل،نیشنلسٹ کانگریس کے صدر شرد پوار،جنتا دل(یونائیٹیڈ)کے لیڈر شرد یادو ،عام آدمی پارٹی کے لیڈر کے سنجے سنگھ،ترنمول کانگریس کے لیڈر سوکھیندو شیکھررائے اور دیگرلیڈر شامل ہوئے۔اس سے پہلے انہوں نے دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ راج گھاٹ پر گاندھی جی کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔بہار میں بند کے دوران کئی مقامات پر بند حامیوں نے توڑ پھوڑ کی۔ بھارت بند کی حمایت میں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم)، جن ادھیکار پارٹی (جاپ)، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور لوک تانترک جنتا دل کےرہنما اور کارکنان صبح سے ہی سڑکوں پر اتر آئے اور جگہ جگہ سڑک اور ریل ٹریفک اور دکانوں کو بند کرانے کی کوشش کرنے لگے۔راجدھانی پٹنہ میں راشٹریہ جنتادل کے ریاستی نائب صدر رگھونش پرساد سنگھ، ریاستی صدر رام چندرپوربے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی قیادت میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے بند کو کامیاب بنانے کے لئے انکم ٹیکس چوراہا سے ڈاک بنگلہ تک مارچ کیا۔وہیں کانگریس کے ریاستی کارگزار صدر کوکب قادری ،ایم ایل سی پریم چندمشرا، مدن موہن جھا، ممبر اسمبلی وجے شنکر دوبے الگ لگ ٹولیوں میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ ٖڈاک بنگلہ چوراہا پہنچے۔مظاہرین نے مرکز کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔اس سے قبل بند کے حامیوں نے کئی جگہوں پر جم کر ہنگامہ کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑے۔کئی مقامات پر تو بند مظاہرین نے آمدورفت بھی روک دیا۔ اسی دوران جاپ کے کارکنوں نے راجندر نگر ٹرمینل پر مشرقی وسطی ریلوے کے ملازمین کو حاجی پور لے جانے والی بس کے شیشے توڑ دیئے. وہیں، نالندہ میڈیکل کالج جا رہے ایک ڈاکٹر کے ساتھ بندحامیوں نے بدسلوکی کی۔ پٹنہ کے ڈاک بنگلہ چوراہے پر مظاہرین نے ٹریفک کو بلا ک کردیا۔اس دوران بند حامیوں نے کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے۔بند کے دوران داناپور، بیلي روڈ، منیر میں سڑک پر ٹائر جلا کر ٹریفک کو متاثر کیا گیا۔کئی مقامات پرٹرینیں بھی روکی گئیں اور ریل لائنوں پر آگ جلا کر آمدورفت متاثر کی گئی۔ بہار میں اپوزیشن کو بند کو کامیاب بنانے کیلئے بہت زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ کیونکہ مہنگائی سے پریشان عوام نے کھل کر بند کی حمایت کی۔ تمل ناڈومیں عام لوگوں کے معمولات زندگی پر بند کا اثر نظر نہیں آیا۔بند کے دوران دکانیں اور کاروباری ادارے کھلے رہے۔بسیں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے چلتے رہے،حالانکہ کیرالہ اور کرناٹک جیسی پڑوسی ریاستوں کے درمیان چلنے والی انٹر اسٹیٹ بسیں احتیاط کے طورپر تمل ناڈو کی سرحد تک ہی چلائی گئیں۔اسکول-کالج اور تعلیمی ادارے کھلے رہے اور سبھی سرکاری دفاتر،بینکوں اور دیگر تجارتی اداروں میں روزانہ کی طرح کام کاج ہوا۔صحت ،بجلی،دودو اور دیگر خدمات جاری رہیں۔ریاست میں کئی مقامات پر اکا دکا واردات کی رپورٹ ملی ہے۔