واٹس ایپ کے ذریعہ 18 سال بعد لاپتہ شخص گھر پہنچا

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-September-2018

رائے سینا : مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سینا میں گذشتہ 18 سالوں سے اپنے گم شدہ شوہر کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے والی خاتون کی زندگی میں واٹس اپ نے دوبارہ خوشی کی کرن بکھیر دی۔

واٹس ایپ پر وائرل ایک پیغام نے گذشتہ 18 سال سے اپنے خاندان سے بچھڑے ایک شخص کو گجرات سے اس کے گھر ضلع رائے سینا کے دیوری پہنچا دیا ۔حالانکہ اس درمیان اپنے شوہر کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھانے والی خاتون شانتی نے نہ صرف اپنا یک بیٹا اور پوری زمین کھو دی بلکہ دالد کے گمشدگی کے غم میں ایک بیٹی نے بھی اپنا دماغی توازن کھو دیا۔

ذرائع کے مطابق ضلع کے نرمدا کے کنارے بسے گاؤں رمپور کے رہنے والی شانتی بائی(45) کا شوہر کمل سنگھ لادھی 21 اپریل 2000 کو ایک بارات میں گیا تھا اور گانجے کے نشے میں غائب ہوگیا۔بیوی شانتی نے اس کو تلاشنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اسے تلاش نہ کر سکے۔اس درمیان چار بچوں اور بزرگ ساس اور خسرکو سنبھالنے کے لئے شانتی نے محنت مزدوری کی اور سماجی دباؤ کے بعد بھی اپنے شوہر کی تلاش جاری رکھا۔خاتون نے اپنی تین ایکڑ زمین فروخت کر کے اس کی پوری رقم اپنے شوہر کی تلاش میں لگا دیا لیکن اس کا انتظام اب بھی ختم نہ ہوا ۔

والد کو تلاش میں نکلے بیٹے درگیش کا دماغی توازن بگڑگیااور وہ بھوک و پیاس کی وجہ سے جبل پور کی جنگل میں ہمیشہ کی نید سو گیا۔وہیں خاتون کی ایک چھوٹی بیٹی بھی دماغی توازن کھو بیٹھی۔

اس درمیان تین اگست کو کمل سنگھ لودھی گجرات کی ایک تنظیم کو بے ہوشی کی حالت میں ملا،جنہوں نے اسے ایک طبی مرکز میں داخل کرایا۔آٹھ دن کے علاج کے بعد بھی کمل سنگھ لودھی اپنا پتہ صحیح سے نہیں بتا سکا۔ جس کے بعد ڈاکٹروں نےگوگل سے اس کا پتہ جاننے کی کوشش کرتے ہوئے گمشدگی کا پیغام واٹس ایپ پر وائرل کردیا۔اس کے بعد کڑیاں جڑتی چلی گئیں اور کمل سنگھ کے بارے میں دیوری پولیس تک اطلاع پہنچی۔

دیوری تھانہ انچارج دیوندر پال نے یو این آئی کو بتایا کہ ان کے پاس 28 اگست کو اس بارے میں ایک اطلاع پہنچی۔جس کی گہرائی سے تفتیش کی گئی۔ صحیح پتہ ملنے کے بعد گم شدہ شخص کے فوٹو کو بھی ملایا گیا،سب کچھ صحیح پائے جانے کے بعد تفصیلات کا تبادلہ ہوا ۔ اور 9 ستمبر کو شانتی کا شوہر اسے واپس مل گیا۔