ٹریسا مے نے برطانوی آئین کو خود کش جیکٹ پہنا دی ہے: بورس جانسن کی بریگزٹ پر کڑی تنقید

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-September-2018

لندن ،( اے یوایس ) سابق برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے ملک کی وزیراعظم ٹریزا مے کے بریگزٹ منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے برطانوی آئین کو خودکش جیکٹ پہنا کر اس کا ڈیٹونیٹر برسلز کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔بورس جانسن نے یہ بات اتوار کو میل آن لائن میں ایک آرٹیکل میں لکھی۔انھوں نے کہا کہ چیکر ڈیل نے برطانیہ کیلئے دائمی سیاسی بلیک میلنگ کی راہ ہموار کر دی ہے۔بورس جانسن نے رواں برس جولائی میں اس وقت کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا جب کابینہ نے اس معاہدے کی منظوری دی تھی۔لیکن بہت سے ٹوری رکن پارلیمان نے مضمون میں بورس جانسن کی جانب سے اپنائی گئی زبان پر تنقید کی ہے۔اسی اخبار میں حالیہ سیکریٹری خارجہ جریمی ہنٹ نے لکھا کہ لوگ وزیراعظم کے پلان میں ان کی حمایت کریں۔یہ مسٹر جانسن کی اپنی بیوی مارینا سے طلاق کی تصدیق کے بعد ان کا عوامی سطح پر پہلا تبصرہ ہے۔اس اعلان سے قبل ایک اخبار میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ لندن کے سابق میئر کا کسی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔ 2004 میں مسٹر جانسن کو شیڈو وزیر کے عہدے سے اس وقت کے کنزرویٹو پارٹی کے رہنما میچل ہاورڈ نے عہد ے سے ہٹا دیا تھا۔ اس وقت ان پر یہ الزام تھا کہ ان کا صحافی پیٹرونیلا یاٹ سے افیئر ہے۔دی سنڈے ٹائمز کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسز مئے کے معاونین نے 4000 الفاظ پر مشتمل ’نازیبا دستاویز‘ لکھی تھی۔اخبار کا کہنا ہے کہ اس نے اس دستاویز کا دیکھا ہے جسے کنزروٹیو لیڈرشپ کے مقابلے کے وقت تحریر کیا گیا تھا تاہم ڈواؤننگ سٹریٹ کے حکام اور پارٹی کے ہیڈکوارٹر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔اپنے آرٹیکل میں مسٹر جانسن نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین برطانیہ کو دھمکا رہی ہے لیکن انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ برطانیہ اس کا رد عمل اتنا کمزور کیوں دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بجا ئے ایک فیاضانہ فری ٹریڈ ڈیل لینے کے برطانیہ یس سر، نوسر، کہہ رہا ہے۔انھوں نے لکھا کہ اب تک مذاکر ات کی ہر سطح پر برسلز نے جو چاہا وہ حاصل کیا۔انھوں نے کہا کہ ’یہ تضحیک ہے۔`ان کے خیال میں اس سب کی وجہ شمالی آئرلینڈ ہے اور نام نہاد ’بیک سٹاپ‘ کا جنو ن ہے۔بیک سٹاپ سلیوشن برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان دسمبر 2017 میں طے پانے والے معاہدہ ہے جس کا مقصد سرحد پار تعاون برقرار رکھنا، جز یرے کی تمام معیشت میں مدد اور گڈ فرائیڈے امن معادے کی پاسداری کرنا شا مل ہے۔ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اس پر رضامندی سے ہم نے سیاسی طور پر ہمیشہ کیلئے بلیک میل ہونے کا راستہ کھول دیا ہے ۔ کنز رویٹو پارٹی ک دو سینیئر ممبر پارلیمان نے جانسن کی تحریر اور مداخلت پر تنقید کی ہے۔سابق فوجی افسر اور خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن ٹام ٹوجینڈ ہیٹ نے اپنی ٹویٹ میں خودکش حملے کے بعد کا منظر پیش کیا۔انھوں نے لکھا کہ ایک خودکش بمبار نے ہلمند میں میرے فتر کے احاطے میں بہت سے لوگوں کو مار ڈالا۔ یہ خون خر ا بہ بہت قابل نفرت تھا۔ اعضا اور چیتھڑے درختوں اور جھاڑیوں میں لٹک رہے تھے۔ وہ بہادر شخص جس نے اسے مجھے مارنے سے روکا ناقابل برداشت تکلیف سے مر گیا۔ کسی کو سمجھدار ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کا خودکش بمبار سے موازنہ کرنا مذاق کی بات نہیں۔‘وزارت خارجہ میں وزیر سر ایلن ڈنکن نے اپنے سابق باس پر تنقید کی اور کہا کہ یہ جدید برطانوی سیاست کے بدتر ین لمحات میں سے ایک ہے۔’بورس کا وزیراعظم کو خود کش بمبار کے طور پر دیکھنا حد سے زیادہ ہے۔ یہ جد ید برطانوی سیاست کے بدصورت ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ معاف کیجیے گا لیکن یہ بورس کی سیاست کا خاتمہ ہے۔