پٹرول، ڈیزل، نوٹ بندی، ڈالر، جی ایس ٹی نے پول کھول دی سرکار کا،تجزیہ ڈاکٹر مختار احمد فردین

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-September-2018

حیدرآباد (مختار احمد فردین) بہت دنوں کے بعد بھارت بند کا اعلان اور اسکا اثر جگہ جگہ عوام الناس اور ۲ جماعتوں اور ورکرس کا سڑکوں پر اتر آنا اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا، اپوزیشن لیڈران سے لیکر ملک بھر میں تمام جماعتوں نے حکومت وقت کی پالیسی کی پور ی طرح سے مخالفت کی، عوام الناس مہنگائی کی مار سے پریشان، عام انسان کا جینے کی مشکلا ت امیر ترین لوگ اور سیاسی جماعتوںکے لیڈران اور حکمراں اپنی اپنی راگ الاپنے لگے ہیں گذ شتہ دنوں کی بات ہے سابق وزیر اعظم اور وز یرفنا نس نے حکومت کے تمام طریقہ کار نقطہ چینی کئے اور کہا کہ حکومت کے تمام فیصلے عوام دشمن سے کم نہیں اور اس چار سال سے زائد کی حکومت نے عوام سے کئے گئے کسی بھی وعدہ پر کھرا اتر نے میں ناکامیاب رہی ہے ، گذشتہ سالوں سے نوٹ بندی کے بعد سے جیسے حکومت نے عوام کی کمر ہی توڑ ڈالا مہنگائی سے، اب جبکہ سیاسی دنگل میں سیا ستدانوں میں نے کودنا شروع کر دیا ہے، آ نے وا لے چند مہینوں میںالیکشن مختلف ریا ستو ں میں ہونے جا رہی ہے تلنگانہ حکومت تو نجومی کے کہنے پر اپنی حکومت کو وقت سے پہلے ہی تحلیل کر دیا، عوام کے ہاتھ فیصلہ تو ہے مگر یقین بھی تلنگانہ حکومت کو ہے کہ پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیگی ڈاکٹر مختار احمد فردین نے حالیہ دنوں کے تیزی سے بدلتے حالات کا جائز ہ ، ۲۰۱۹ آ تے آتے الیکشن کی تیاری کیلئے تمام سیاسی حکو مت گٹھ بندھن بنانے میں مصروف جہا ں میں وہیں پر صدر بی جے پی امیت شاہ کے دروازہ تیاری الیکشن پر امیت شاہ اور مودی جی نے اعلان کر دیا کہ اپوزیشن کے پاس کوئی نیتی اور لیڈر نہیں اسلئے ہم ۲۰۱۹؍۲۰۲۲ اور اسکے بعدکا سفر کرینگے کامیابی کیساتھ، ادھر کانگریس کے صد ر راہول گاندھی حالیہ دورہ لندن کے بعد سے سر خیوں میں خوب آنے لگے، راہول گاندی اگر کیجریوال کے اسٹراجیڈی کو اپنائے اور ڈائر یکٹ لوگوں سے اپنی Connectingبنائیں اور آئندہ کے الیکشن کیلئے عوام الناس کے قریب جائیں اور بتائیں کہ ہماری حکومت آنے پر ہم خالصتاً آ پکے لئے کام کرینگے ۲۰۱۶ء سے نوٹ بندی کے بعد سے ملک کے حالات نے عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا، ۲۰۱۴؍ سے مہنگائی نے جان لے لی ہے، مسئلے حل کچھ نہیں ہوئے، اسکی بڑی مثال کسان سے ملک کی معاشیات اور حالات کا جائزہ لگا سکتے ہیں، ملک کے سیاسی حالات نے وکاس کا کام کم کیا مگر نفرت کی بازار خوب گرم ہوئی ہے، موب لنچنگ، ہجومی تشدد اور گائو رکھشکوں نے ملک کے لا اینڈ آرڈر اپنے ہاتھ میں لیکر ہندو، مسلم کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑ ی کر دی گئی، وہیں دلت بھی مسلمانوں کے بعد اسکے شکار ہوئے،پورا دیش ہی جیسے نوٹ بندی جیسے غلط فیصلے سے پریشان ہو گیا، ابھی حالیہ رپو ر ٹ آرپی آئی آنے کے بعداب مذ ہب خاموش اور جواب دینے سے قاصر ہے، اب جبکہ سیاسی بگل بج گیا اور الیکشن جیتنے کیلئے اور زیادہ کیچڑ اچھالے جائینگے ، امیت شاہ کہتے ہیں کانگریس ملک بھارت کی ضرورت ہے، جبکہ راہول گا ند ھی بی جے پی ملک بھارت دیکھنا چا ہتے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی جی مضبوط دعو یدار ہیں آئندہ کیلئے مگر راہول گاندھی اسقدر مضبوط نہیں ہیں، بس انکا یقین دیگرے جماعتو ں پر گٹھ بند ھن پر منحصر ہے، میڈیا ہائوس بی جے پی اور سو شل میڈیا پر بھی کنٹرول ہونے سے ۲۴ ؍ گھنٹے کا پرچار سے عوام کو بہت کنفیوز کر دیا ہے اب ایک اور انقلاب کی ضرورت ہے کیا، ڈاکٹر مختار احمد فردین کا تجزیہ یہ ہیکہ ۲۰۱۹؍ ممکن کے بی جے پی جیت جائے، مگر عوام الناس کے ہاتھ تقدیر بنانے کا فیصلہ وہ کانگریس کیلئے بھی ممکن؟