پچوری پر رفیق کار کے ساتھ جنسی زیادتی معاملے میں الزام طے کرنے کا حکم

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 15-September-2018

نئی دہلی، (یو این آئی) دی انرجی اینڈ ریسورسیز انسٹی ٹیوٹ (ٹیری) کے سابق ڈائریکٹر جنرل آر کے پچوری کی مشکلیں آج اس وقت بڑھ گئیں جب ساکیت کی ایک عدالت نے رفیق کار کے ساتھ چھیڑ خانی کے معاملے میں ان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔میٹروپولیٹن مجسٹریٹ چارو گپتا نے ماہر ماحولیات پچوری پر اپنی رفیق کار کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے میں الزامات طے کرنے کا حکم د یا۔پچوری پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے پچوریکو کچھ دیگر دفعات سے بری کردیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 20اکتوبر کو ہوگی۔پچوری کی ایک رفیق کار نے تیرہ فروری 2015 کو جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا ۔اس کے بعد فروری 2016 میں ایک دیگر خاتون نے بھی پچوری پر ایسا ہی الزام لگایا تھا۔عدالت کے الزامات طے کرنے کے حکم دینے کے بعد متاثرہ نے وہاں موجود میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو آگے لے جانا آسان نہیں تھا۔ متاثرہ نے کہا کہ پچوری کے خلاف لڑتے ہوئے آج اسے بڑا سکون ملا ہے۔متاثرہ ستمبر 2013 میں ٹیری سے وابستہ تھیں۔اس کا الزام ہے کہ ٹیری سے وابستگی کے کچھ وقت بعد پچوری کی طرف سے اسے ای میل اور وہاٹس ایپ پر قابل اعتراض پیغامات ملنے لگے۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ پولیس میں شکایت درج کرانے کے بعد پچوری نے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا ۔ نچلی عدالت میں معاملہ جب بھی سماعت کے لئے آتا تھا تو پچوری اس کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ چلے جاتے تھے۔