کشمیر میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کیلئے حالات سازگار نہیں: کانگریس

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-September-2018

سری نگر ، (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے کہا ہے کہ ریاست بالخصوص وادی میں اس وقت بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کرانے کے لئے حالات سازگار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے بند کمروں میں بیٹھ کر احکامات جاری کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ریاستی گورنر انتظامیہ کا ایک معتبر چہرہ عوام کے سامنے آکر اعلان کرے انتخابات کے منصفانہ اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ریاست کی دو اہم علاقائی سیاسی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پہلے سے اعلان کرچکی ہیں کہ وہ اُس وقت تک بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی جب تک نہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں دفعہ35اے کو لیکر اپنی پوزیشن واضح کریں گی اور عدالت کے اندر اور باہر اس دفعہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کارگر اور ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائیں گی۔ریاستی کانگریس صدر غلام احمد میر نے بدھ کے روز یہاں پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا ‘اگر حالات ٹھیک ہوتے تو آپ کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ہمیں کوئی پوچھتا نہیں۔ آج کے وقت میں اگر اندھا بھی ہوگا وہ بھی یہ نہیں کہے گا کہ کشمیر میں الیکشن کے لئے حالات سازگار نہیں ہیں۔ انتخابات وہ ہیں جو ہمارے وقت میں سنہ 2011 میں کرائے گئے۔ انتخابات وہ ہیں جو ہمارے وقت میں سنہ 2014 میں کرائے گئے۔ ہمارے لئے سنہ 2017 کے ضمنی انتخابات ، انتخابات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ‘ریاست بالخصوص وادی کشمیر میں حالات سازگار نہیں ہیں۔ میں یہ کہوں یا نہ کہوں لیکن یہ دنیا جانتی ہے۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والوں کو سخت رکاوٹیں پار کرنی پڑیں گی۔ رکاوٹیں پار کرتے کرتے انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں ابھی تک مرکزی حکومت، ریاستی گورنر انتظامیہ اور الیکشن کمیشن سے تحفظ کی گارنٹی نہیں ملی ہے۔ خیال رہے کہ گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں 31 اگست کو ہوئی ریاستی کونسل کی میٹنگ میں ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا تھا کہ یہ انتخابات رواں برس اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں کرائے جائیں گے۔ جی اے میر نے کہا کہ ریاستی کانگریس کا ایک وفد قومی راجدھانی نئی دہلی روانہ ہوگا جہاں وہ پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ کو بلدیاتی و پنچایتی انتخابات اور ریاست کی مجموعی صورتحال پر بریف کرے گا۔ انہوں نے کہا ‘کشمیر سے متعلق کوئی بھی بات پورے ملک کو اثرانداز کرنے والی بات ہوتی ہے۔اس کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ ہم اپنے دو تین ساتھیوں کو دہلی روانہ کریں گے جہاں وہ کانگریس کی مرکزی لیڈرشپ کو کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریف کریں گے۔ جی اے میر نے کہا کہ کانگریس پارٹی ریاست کے حالات پر گہری نظر بنائے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا ‘ہم حالات پر گہری نظر بنائے ہوئے ہیں۔ ہمیں ملک اور ریاست میں بھی جواب دینا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ گورنر انتظامیہ کا ایک معتبر چہرہ عوام کے سامنے آئے ، یقین دلائیں کہ پرامن انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے کیا کیا تیاریاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ‘مرکزی اور ریاستی گورنر انتظامیہ انتخابات کرانے پر اپنا موقف واضح کرے۔ وہ وضاحت کے ساتھ جموں وکشمیر کی معصوم جنتا کے پاس آئے۔ کیا وہ انتخابات کرانے کی نیت رکھتے ہیں یانہیں۔میر نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے بند کمروں میں بیٹھ کر احکامات جاری کرنا کافی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ‘میں ان ساتھیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو سرپنچ، پنچ اور کونسلر بننے کا منشا رکھتے ہیں کہ آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے۔ کیا کوئی چہرہ لوگوں کے پاس گارنٹی کے ساتھ آیا۔ بند کمروں میں بیٹھ کر احکامات جاری کرنا کافی نہیں ہے۔جی اے میر نے کہا کہ ہم بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے حوالے سے اپنی شکایت ریاستی الیکشن کمیشن سے کریں گے۔ انہوں نے کہا ‘ہماری ایک قومی سیاسی جماعت ہے۔ یہ پارٹی جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے وجود میں آئی ہے۔